رواں برس مئی میں روسی سکیورٹی فورسز نے متعدد مسلمان علما اور کمیونٹی کے نمائندوں کو حراست میں لیا۔ ملک کے سرکاری میڈیا میں ان گرفتاریوں کی محدود کوریج ہوئی تاہم آن لائن ان گرفتاریوں کے بارے میں مختلف بیانیے سامنے آئے۔
انتہا پسند دائیں بازو کے اداروں اور چینلز کے نزدیک یہ گرفتاریاں اس مہم کے آغاز کی علامت تھیں، جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ ان اداروں کے مطابق اس مہم کا مقصد کریملن کے حمایت یافتہ ادارے سپریچول بورڈ آف مسلمز (ڈی یو ایم) کو ختم کرنا ہے۔
روس سے باہر کام کرنے والے میڈیا اداروں کے مطابق یہ اقدامات روس میں اسلاموفوبیا میں اضافے کا اشارہ دیتے ہیں، جہاں بہت سے افراد ایک متنازع نئے قانون، جو ’رہائشی عمارتوں‘ میں اجتماعی عبادت کو ممنوع قرار دینے کے لیے بنایا جا رہا ہے، کو بھی اس کی ایک مثال قرار دیا ہے۔
بی بی سی مانیٹرنگ نے ان گرفتاریوں کی لہر، مقامی علما کے ردِعمل اور روس میں مسلم برادریوں کے لیے اس کے ممکنہ معنی کا جائزہ لیا۔
کون زیرِ حراست، الزامات کیا؟
مئی 2026 میں روسی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر آٹھ مسلمان علما اور کمیونٹی کے نمائندوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے کم از کم ایک کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔
ان میں کاریلیہ کے سابق مفتی وسام بردویل بھی شامل تھے۔ سرکاری خبر رساں ادارے طاس کے مطابق بردویل کو 14 مئی کو شیریمیٹیوو ایئرپورٹ پر مبینہ طور پر ’پولیس کی نافرمانی‘ کرنے کے الزام میں 15 دن قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
مقامی خبر رساں ادارے فورٹانگا کے مطابق روسی ایجنسی ایف ایس بی نے 12 مئی کو بردویل کے نائب احمد تانگییف کو بھی حراست میں لیا۔
مقبول روسی نیوز سائٹ لینتا ڈاٹ آر یو کے مطابق جمہوریہ موردوویا کے مفتی رائل آساینوو کو 19 مئی کو ’رشوت‘ طلب کرنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں روس کے سپریچول بورڈ آف مسلمز کے ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کا حوالہ دیا گیا تھا۔ مئی کو کاروباری روزنامہ کومیرسانت نے عدلیہ کے پریس آفس اور نامعلوم تفتیش کاروں کے حوالے سے حراست میں لیے گئے افراد کی ایک طویل فہرست بھی شائع کی تھی۔
کومیرسانت کے مطابق سینٹرلائزڈ مذہبی تنظیم ’مسلم کمیونٹی آف دی نارتھ ویسٹ‘ کے سابق چیئرمین محمد کھینی کو سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کے ایک رشتہ دار اور روس کے علاقے ساراتوو کے نائب مفتی ال خیخ نضال عواداللہ احمد کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔
اس ویب سائٹ نے مزید چار گرفتار افراد کے ناموں کے ابتدائی حروف اور خاندانی نام بھی درج کیے، جنھیں تحقیقاتی ادارے ایجنٹسٹوو نے تاتارستان، مرمانسک اور پیٹروزاوڈسک میں مسلم کمیونٹی مراکز کے نمائندوں کے طور پر شناخت کیا۔
ان افراد کو حراست میں کیوں لیا گیا؟
ان افراد کو مختلف الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا، جن میں ’رشوت‘ سے لے کر ’نافرمانی‘ جیسے الزامات شامل ہیں تاہم بلاگرز اور بعض میڈیا اداروں نے اس سے زیادہ سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
23 مئی کو مبینہ طور پر ایسے مقدمات کا مواد دیکھنے کا دعویٰ کرنے والے کاروباری روزنامہ کومیرسانت کے مطابق کئی ملزمان پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے ’اخوان المسلمون‘ میں شمولیت اختیار کی۔
’اخوان المسلمون‘ پر روس نے سنہ 2003 میں پابندی عائد کی تھی۔
معروف سرکاری ٹی وی پراپیگنڈسٹ رسلان اوستاشکو نے بھی ’اخوان المسلمون‘ سے متعلق اس دعوے کو دہرایا اور علما کو ایک نئے ’ففتھ کالم‘ کے طور پر پیش کیا، جو ’غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں‘ اور یورپی یونین کے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
انھوں نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ ’یہ سوال بڑھتا جا رہا ہے کہ آیا یہ ایک مذہبی سٹرکچر ہے یا بیرون ملک سے کنٹرول کیا جانے والا ایک دہشت گرد نیٹ ورک؟‘
متوقع طور پر انتہا پسند دائیں بازو کے چینلز نے ان گرفتاریوں کی خبروں کا خیر مقدم کیا اور ریاست کی جانب سے ڈی یو ایم کے خلاف ممکنہ کریک ڈاؤن کے خیال پر واضح جوش و خروش کا اظہار کیا۔
انتہا پسند دائیں بازو کے چینل ’سنز آف مونارکی‘ نے 19 مئی کو لکھا کہ ’بہادر روسی سکیورٹی فورسز نے بالآخر اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی، جو روس میں مختلف مذاہب کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں۔‘
اس نے مزید کہا ’مجھے امید ہے کہ یہ بس شروعات ہے!‘
21 مئی کو بلاگر یوری بارانچک کی ایک خاصی توہین آمیز پوسٹ میں کہا گیا: ’آرتھوڈوکس روس کی بتدریج ’حلالائزیشن‘ اور ’نقابائزیشن‘ کے حامی یہ شدت پسند لوگ کافی عرصے سے جیل کی سیر کے منتظر تھے۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ حکام میں کسی کو اچانک اس خطرے کی سطح اور وسعت کا اندازہ ہو گیا۔‘
حب الوطنی پر سوالات
مسلمان علما کے خلاف دائر مقدمات میں سے سب سے نمایاں ایک مقدمہ 29 مئی کو سامنے آیا۔ یہ معاملہ ڈی یو ایم کے چیئرمین مفتی راویل غینوتدین کے پہلے نائب دامیر مخیتدینوف سے متعلق تھا، جن پر ’نفرت یا عداوت کو بھڑکانے‘ کا الزام عائد کیا گیا، جیسا کہ کاروباری روزنامہ آر بی سی نے رپورٹ کیا۔
تین دن بعد کاروباری اخبار ویدوموستی نے کہا کہ مخیتدینوف پر ’منگول-تاتار دور‘ کی پینٹنگز کی نمائش پر 150,000 روبل (تقریباً 2,040 ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس نے ریاستی میسنجر میکس پر ماسکو سٹی کورٹس آف جنرل جورسڈکشن کی جانب سے شائع کردہ ایک پوسٹ کا حوالہ دیا۔
یہ پینٹنگ، جو گذشتہ برس ایک انٹرویو کے دوران ان کے دفتر کی دیوار پر لگی دیکھی گئی تھی، 1223 کی جنگِ کالکا کو ظاہر کرتی تھی، جو مشرقی یورپ پر پہلے منگول حملے کے حوالے سے ایک اہم موڑ تھا۔
اس پر بلاگرز، شدت پسند قوم پرستوں اور حتیٰ کہ بعض سرکاری عہدیداروں کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی، جن میں سے کچھ نے اس پینٹنگ کو ’روس مخالف‘ قرار دیا اور کریملن سے وابستہ ڈی یو ایم کو ’انتہا پسند‘ تنظیم تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
مخیتدینوف نے ابتدا میں روس مخالف ہونے کے الزامات کو مسترد کیا اور اس پینٹنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’گولڈن ہورڈ‘ (13ویں صدی میں منگول سلطنت کی جانشین ریاست) نے ’روسی سرزمین کے اتحاد، روسی ریاست کے قیام اور روس کے ایک کثیر نسلی اور کثیر مذہبی ریاست کے طور پر ارتقا‘ میں اہم کردار ادا کیا۔
بعد میں انھوں نے اپنا مؤقف بدل لیا۔ سنہ 2025 میں جب اس پینٹنگ کے حوالے سے تنازع پہلی بار سامنے آیا، تو ڈی یو ایم کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں مخیتدینوف نے کہا کہ ’میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس تصویر کو عوامی نظر سے ہٹا دیا جائے۔ اس کی جگہ اب عظیم محبِ وطن جنگ [نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی جنگ] کے واقعات سے متعلق ایک تصویر لگائی جائے گی۔‘
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جدید روس کی شمولیت پسندی کو اجاگر کرنے کی کوشش میں، مخیتدینوف نے ریاست کے تاریخی بیانیے پر اجارہ داری کے اصول سے انحراف کیا۔
اقتدار میں رہتے ہوئے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی شناخت کو اس چیز کے گرد منظم کرنے کی کوشش کی ہے جسے وہ سلاوی اقوام کے مشترکہ ’تاریخی اور روحانی دائرے‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، اور اس عمل میں روسیوں، یوکرینیوں اور بیلاروسیوں کے درمیان امتیازات کو مدہم کر دیا گیا۔
’سلاوی‘ ورثے پر مبنی اس تصورِ روس سے مختلف نسلی اور مذہبی شناختوں کے لیے جگہ محدود ہو جاتی ہے اور غالب امکان ہے کہ اس سے اسلام مخالف ایجنڈے رکھنے والی شدت پسند قوم پرست تحریکوں کو تقویت ملتی ہے۔ڈی یو ایم کا کیا کہنا ہے؟
روس کے سپریچول بورڈ آف مسلمز (ڈی یو ایم) نے گرفتاریوں کی خبروں کے مین سٹریم میڈیا میں آنے کے باوجود بھی تقریباً خاموشی اختیار کیے رکھی۔
21 مئی کو کریملن نواز ویب سائٹ لینتا ڈاٹ آر یو پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تنظیم کے ایک گمنام ذریعے نے کہا کہ انھیں نہ تو ’بڑی تعداد میں گرفتاریوں‘ کی کوئی علامات نظر آتی ہیں اور نہ ہی کسی ’مسلم مخالف مہم‘ کے آثار۔
دوسری جانب موردوویا کے نائب مفتی راشد عبدراشیتوف نے 20 مئی کو جاری ایک بیان میں اپنے ساتھی رائل آساینوو کی گرفتاری کے بعد ان کا دفاع کرتے ہوئے اس واقعے کو ’غلط فہمی‘ قرار دیا۔
کئی ہفتوں بعد ڈی یو ایم کے سربراہ راویل غینوتدین نے بالآخر ان رپورٹس کے حوالے سے باضابطہ بیان جاری کیا۔
انھوں نے 8 جون کو کہا کہ ’ہم بعض میڈیا اطلاعات اور بلاگرز کی جانب سے کیے گئے ان دعوؤں کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں کہ روس کا سپریچول بورڈ آف مسلمز مبینہ طور پر انتہا پسندی، شدت پسندی، غیر ملکی اثر و رسوخ اور نسلی کشیدگی سے منسلک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ڈی یو ایم کو انتہا پسندی کا مرکز بنا کر پیش کرنے کی ’کوشش‘ تفرقہ پیدا کر رہی ہے اور بیرونی مخالفین کے مفادات کو تقویت دے رہی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ غینوتدین کے بیان میں گرفتاریوں، حراستوں یا انتظامی الزامات کا بالکل کوئی ذکر نہیں تھا۔ انھوں نے صرف یہ اعادہ کیا کہ تنظیم ’وفاقی اور علاقائی حکام کے ساتھ تعاون‘ کے لیے تیار ہے۔
یہ بات غیر معمولی نہیں کیونکہ اس رہنما کی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ دیرینہ وابستگی رہی ہے۔
کریک ڈاؤن کی مزید نشانیاں
مئی کے اوائل میں راویل غینوتدین نے صدر پوتن سے ایک بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپیل کی تھی، جو مؤثر طور پر رہائشی عمارتوں میں مذہبی اجتماعات اور اجتماعی نماز پر پابندی عائد کرتا ہے۔
یہ بل 2024 میں پیش کیا گیا تھا اور اسے حکمران جماعت کے نمایاں سیاستدانوں جیسے پیوتر ٹالسٹوی، سینئر رکنِ پارلیمان سرگئی میرونوف اور ایل ڈی پی آر کے رہنما لیونیڈ سلوٹسکی کی حمایت حاصل ہوئی۔ جلا وطن اخبار نووایا گزیٹا نے 11 مارچ کو پیشگوئی کی تھی کہ ’اس کا مطلب ہے کہ اس بار بل کے منظور ہونے کے امکانات 100 فیصد ہیں۔‘
غینوتدین نے 6 مئی کو پوتن کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا کہ ’اس بات کا مطلب یہ ہے کہ صرف رجسٹرڈ رہائشی ہی اپارٹمنٹس میں عبادت کر سکیں گے، اگر آپ رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ ان کے گھر جا کر عبادت کریں تو بھی ممکنہ طور پر قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ آئینی حقِ عبادت کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ’انتہا پسندی‘ کو فروغ مل سکتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ یہ بل ملک کی مسلم کمیونٹیز کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بناتا ہے کیونکہ مسلمانوں کے لیے عبادت کے عوامی مقامات کی ’کمی‘ ہے اور حکام کی جانب سے مساجد، ثقافتی مراکز اور عبادت گاہوں کی تعمیر کے اجازت نامے دینے سے انکار کیا جاتا رہا ہے۔
جلا وطن ادارے نووایا گزیٹا یوروپا نے کہا کہ اس بل میں ’تارکینِ وطن مخالف جھکاؤ‘ پایا جاتا ہے اور 2023 میں ملک بھر میں مسلم عبادت گاہوں پر ہونے والی ’چھاپہ مار کارروائیوں‘ کی ایک سلسلہ کی یاد دہانی کروائی، جہاں مشتبہ تارکین وطن کو اکثر پکڑ کر براہِ راست فوجی رجسٹریشن اور بھرتی کے دفاتر منتقل کر دیا جاتا تھا۔
22 مئی کو جلا وطن چینل دوجد ٹی وی کے اینکر میخائل فشمان نے بظاہر غینوتدین کے احتجاجی خط اور بعد میں ہونے والی گرفتاریوں کے درمیان تعلق جوڑا۔
کریملن اور مسلم شہریوں کے درمیان تعلق
روس میں دو کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں، جو یورپ کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہے اور ان کی اکثریت ملک کے شمالی قفقاز اور وولگا کے علاقوں میں رہتی ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدر پوتن اس آبادیاتی حقیقت کو اس وقت استعمال کرتے ہیں جب یہ ان کے لیے مفید ہو۔ مثلاً سعودی وفود یا 2026 کے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں ’معزز مہمانوں‘ سے گفتگو کے دوران۔
تاہم کریملن اور مسلم شہریوں کے درمیان تعلق ہمیشہ سے پیچیدہ رہا۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ابھرنے والی علیحدگی پسند جنگوں کے بعد، پوتن نے روس کی مسلم اکثریتی جمہوریاؤں میں حکمرانی کے ڈھانچے قائم کیے۔ شاندار مساجد کے منصوبوں کی مالی اعانت اور چیچنیا کے سربراہ رمضان قادیروف جیسے ہم آہنگ رہنماؤں کی تعیناتی کے ذریعے حکام نے مذہبی ہم آہنگی کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی۔
ریاستی پالیسی کے مطابق روس میں مسلم اداروں نے (جیسے ڈی یو ایم) مادی اور نظریاتی طور پر یوکرین میں روس کی جنگی کوششوں کی حمایت کی۔ اسی دوران، پوتن کی جنگ کے پرجوش حامی ’آرتھوڈوکس روس‘ کے ایک واحد تصور سے مزید وابستہ ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک گمنام اسلامی سکالر نے 21 مئی کو آزاد ادارے ڈوکسا کو بتایا: ’اسلاموفوبیا اور مہاجر مخالف جذبات پہلے بھی موجود تھے لیکن جنگ ایک واضح سنگِ میل ثابت ہوئی۔‘
ماضی میں روس میں مذہبی تنوع کی قیمت سیاسی اطاعت کی صورت میں ادا کی جاتی تھی۔ جیسا کہ جلا وطن نووایا گزیٹا یوروپا نے اشارہ دیا، حالیہ گرفتاریوں کی لہر اس بات پر سوال اٹھاتی ہے کہ آیا وہ وفاداری اب بھی کافی ہے۔(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)