ایران کے خلاف امریکہ کے سخت رخ میں تبدیلی نہیں ہوگی: بولٹن

واشنگٹن: امریکہ کے قومی مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھلے ہی ایران سے بات چیت کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن تہران کے خلاف امریکہ کے سخت رخ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

بولٹن نے ریڈیو فری یورپ کو دیئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’صدر ٹرمپ کے ایران سے بات چیت کرنے کی خواہش ظاہر کرنےسے تہران کے سلسلے میں ہمارے رخ میں کوئی تبدیلی نہیں آئےگی۔‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا وہ بہتر حالات میں ایران کے صدرحسن روحانی سے ملاقات کر کے بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور یہ ملاقات جلد ہی ہوسکتی ہے۔

بولٹن نے کہا کہ ایران پر لگی امریکی پابندیوں کو تبھی ہٹایا جائے گا جب تہران کے ساتھ نیوکلیائی اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے سلسلے میں معاہدہ ہوگا۔ فرانس کے صدر امینوئل میکروں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ کچھ ہفتے کے اندر ہی ٹرمپ اور روحانی کے درمیان ملاقات ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ سال ایران نیوکلیائی معاہدے سے اپنے ملک کے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی دونوں ملکوں کے رشتے بہت تلخ ہوگئے ہیں۔ اس نیوکلیائی سمجھوتے کے التزامات کو نافذ کرنے کے سلسلے میں بھی تذبذب کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔

سال 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت ایران نے اس پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading