تنظیمی اختلافات ختم، پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ریاست گیر دورہ کریں گے: سنیل تٹکرے
نئی دہلی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے کہا ہے کہ پارٹی کے اندر پائے جانے والے تمام اختلافات اور غلط فہمیاں اب ختم ہو چکی ہیں اور آئندہ دنوں میں پارٹی کی تنظیم کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کے مقصد سے تمام سینئر لیڈران متحد ہو کر ریاست بھر کا دورہ کریں گے۔
نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل تٹکرے نے کہا کہ پارٹی کی قومی عاملہ سے متعلق الیکشن کمیشن کو جو ترمیم شدہ دستاویزات پیش کی جانی ہیں، وہ آئندہ چند دنوں میں جمع کرا دی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں پارٹی کی اندرونی میٹنگ میں تمام اہم لیڈروں کے درمیان تفصیلی اور مثبت تبادلۂ خیال ہوا ہے اور متعدد معاملات پر اتفاق رائے قائم کیا گیا ہے۔ پارٹی انضمام سے متعلق جاری قیاس آرائیوں پر وضاحت کرتے ہوئے سنیل تٹکرے نے کہا کہ شرد پوار گروپ کے ریاستی صدر ششی کانت شندے اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے پہلے ہی اس معاملے پر اپنی واضح رائے سامنے رکھ چکے ہیں، اس لیے اب اس موضوع پر مزید بحث کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شیواجی مہاراج، شاہو مہاراج، مہاتما پھلے، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر اور سابق وزیر اعلیٰ یشونت راؤ چوہان کے ترقی پسند نظریات پر چلنے والی پارٹی ہے۔ پارٹی کے تمام فیصلے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں، جبکہ تنظیم کے اندر جمہوری روایات کو مکمل طور پر برقرار رکھا جاتا ہے۔ سنیل تٹکرے نے مزید کہا کہ این سی پی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی ایک اہم اتحادی جماعت ہے اور وہ بی جے پی کی قیادت میں مرکز اور ریاست دونوں سطحوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ این ڈی اے میں شمولیت کی موجودہ پالیسی برقرار رکھی جائے گی اور آنے والے دور میں ترقیاتی منصوبوں کو مزید رفتار دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پارٹی کے تمام عہدیداران اور کارکنان متحد ہو کر تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، عوامی رابطہ بڑھانے اور ریاست کے ہر حصے میں پارٹی کی بنیاد کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے، جس سے پارٹی کو مستقبل میں مزید تقویت حاصل ہوگی۔