بھارتی زیورات مارکیٹ میں خریدار اور سرمایہ کار تذبذب کا شکار،مگر اپریل میں قیمتیں نئی ریکارڈ بلندی پر پہنچنے کا امکان

ممبئی ؛1/ فروری ۔( ورق تازہ نیوز)سونے کی قیمتوں میں اچانک کمی کے باعث بھارتی زیورات کی منڈی میں صارفین اور سرمایہ کاروں کے جذبات میں بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ شادیوں کے سیزن کے لیے زیورات خریدنے والے ہوں یا طویل مدتی سرمایہ کار، سبھی تذبذب میں مبتلا نظر آ رہے ہیں۔

ایم سی ایکس (MCX) پر اپریل 2026 کی ڈیلیوری کے لیے سونے کی قیمت میں 18 فیصد کی بھاری گراوٹ درج کی گئی ہے۔ سونا 33,112 روپے کی کمی کے ساتھ 1,50,849 روپے پر بند ہوا۔

دوسری جانب، فروری کے فیوچر معاہدے میں بھی 12 فیصد یا 20,328 روپے کی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد قیمت گھٹ کر 1,49,075 روپے تک آ گئی۔

ادھر امریکی سرمایہ کاری بینک جے پی مورگن کی ایک نئی رپورٹ نے عالمی مارکیٹ میں کھلبلی مچا دی ہے۔ بینک کے مطابق 2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت 8,000 سے 8,500 ڈالر فی اونس (تقریباً 7.79 لاکھ روپے) تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر ایک اونس کی قیمت کو 10 گرام سونے میں تبدیل کیا جائے تو یہ تقریباً 2,35,807 روپے فی 10 گرام بنتی ہے، جو موجودہ سطح کے مقابلے ایک تاریخی چھلانگ ہوگی۔

بھارتی فیوچر مارکیٹ MCX پر اپریل 2026 کی ڈیلیوری کے لیے سونے پر حالیہ دنوں میں شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر منافع بکنگ کے باعث قیمتوں میں دوہرے ہندسے کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس گراوٹ کے بعد زیورات کی مارکیٹ میں خریداروں کا رویہ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔

کئی خریدار اس وقت سونا خریدنے کے معاملے میں ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کی پالیسی اپنا رہے ہیں، جبکہ کچھ سرمایہ کار اس گراوٹ کو سنہری موقع سمجھ رہے ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر صورتحال کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔

معروف ماہرِ معاشیات پیٹر شِف کے مطابق، سونا اب صرف ’’بحران سے بچاؤ‘‘ (Crisis Hedge) تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو میں ایک اہم اثاثہ بنتا جا رہا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading