اہم خَبر: مودی حکومت مجھے جیل میں بند کر سکتی ہے لیکن میں جھکنے والی نہیں… ممتا

ہم کسی ایجنسی سے نہیں ڈرتے، میں جیل گئی تو یہ میرے لیے تحریک آزادی جیسا: ممتا بنرجی

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت وادیٔ کشمیر میں نااتفاقی کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ سبھی اہم اداروں کی قیادت سبکدوش نوکرشاہ کر رہے ہیں جو حکومت کے لیے ’یَس مین‘ کی طرح کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اب مغربی بنگال کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کیونکہ ہم اس کی تقسیم کرنے والی سیاست کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مرکز اپوزیشن کے لیڈروں کو یا تو دھمکی دیتی ہے یا پیسوں سے خرید لیتی ہے۔ بی جے پی پر زربردست حملہ کرتے ہوئے انھں نے کہا کہ مرکزی حکومت مجھے جیل میں بند کر سکتی ہے لیکن میں بی جے پی کے سامنے جھکنے والی نہیں۔


بہار: چھیڑخانی کی مخالفت کرنے پر تیزاب سے حملہ، 13 زخمی

بہار کے ویشالی ضلع واقع داؤد پور گاؤں میں مبینہ چھیڑخانی کی مخالفت کرنے والے ایک ہی فیملی کے 13 اراکین پر بدھ کو تیزاب پھینک دیا گیا جس میں دو خواتین سمیت سبھی لوگ سنگین طور پر جھلس گئے۔ ویشالی کے ڈپٹی پولس سپرنٹنڈنٹ راگھو دیال نے یہاں بتایا کہ منگل کو کسی بات پر داؤد پور گاؤں کے رہنے والے نند کشور بھگت کی فیملی کے اراکین کا کچھ لوگوں سے تنازعہ ہو گیا اور تنازعہ مار پیٹ تک پہنچ گیا۔ حالانکہ دونوں فریق میں مار پیٹ کے بعد معاملہ ختم بھی ہو گیا۔

بدھ کو دوسرے فریق کے لوگ غصے میں گھر میں گھسے اور فیملی کے اراکین پر تیزاب پھینک دیا۔ اس واقعہ میں دو خواتین سمیت ایک ہی فیملی کے 13 لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔


کیرالہ: وائناڈ کے باؤلی گاؤں میں سیلاب متاثرین سے راہل گاندھی کی ملاقات

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اپنے پارلیمانی حلقہ وائناڈ کے دورہ پر ہیں۔ آج راہل گاندھی سیلاب سے متاثر لوگوں سے ملاقات کرنے باؤلی گاؤں پہنچے اور ان کی پریشانیوں کو سنا۔


یو پی میں خواتین محفوظ نہیں، زانیوں کے ساتھ کھڑی ہے بی جے پی حکومت: پرینکا گاندھی

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ اتر پردیش میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس دن بی جے پی حکومت خواتین کو یہ بھروسہ دلانے میں کامیاب ہو کہ آپ محفوظ ہیں، اور اگر آپ کے ساتھ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو آپ کو انصاف ملے گا۔ پرینکا نے کہا کہ آواز اٹھانے والی لڑکی لاپتہ ہے یا کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، کوئی نہیں جانتا۔ آخر یہ کب تک چلے گا؟

ایک دیگر ٹوئٹ میں سوامی چنمیانند سے عصمت دری کا کیس ہٹائے جانے کی خبر ٹیگ کرتے ہوئے پرینکا گاندھی لکھتی ہیں کہ ’’اتر پردیش میں یہ اناؤ معاملہ جیسا ہی دہراؤ لگ رہا ہے۔ اگر کوئی خاتون بی جے پی لیڈر کے خلاف شکایت کرتی ہے تو اس کو انصاف ملنا تو دور کی بات، اس کی خود کی سیکورٹی کی بھی گارنٹی نہیں رہتی۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’پچھلے ہی سال ملزم پر سے عصمت دری کا مقدمہ بی جے پی حکومت نے واپس لیا تھا۔ بہت صاف ہے کہ حکومت کس کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘


دفعہ 370 ہٹانے پر سپریم کورٹ کا مرکز کو نوٹس، اکتوبر میں ہوگی اگلی سماعت

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے مسئلے پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے، سپریم کورٹ اب اس معاملے کی اگلی سماعت اکتوبر میں کرے گا، اس معاملے کو 5 ججوں کی آئین بنچ سنے گی۔


پاکستان کشمیر میں لوگوں کو مشتعل کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے: راہل گاندھی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے۔ اس ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’جموں و کشمیر میں تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے اور اس کے لیے پاکستان ذمہ دار ہے۔ یہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک ہے اور یہ پاکستان کشمیر میں لوگوں کو مشتعل کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے ایک دیگر ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’میں اس حکومت (مودی حکومت) سے کئی ایشوز پر اختلاف رکھتا ہوں۔ لیکن میں یہ پوری طرح واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کشمیر ہندوستان کا داخلی ایشو ہے اور اس میں مداخلت کی اجازت پاکستان یا کسی دوسرے ملک کو نہیں ہے۔‘‘


ہریانہ: ریواڑی میں ڈھائی سال کی بچی سے عصمت دری، ملزم گرفتار

ہریانہ کے ریواڑی میں ایک ڈھائی سال کی بچی کے ساتھ عصمت دری کا غیر انسانی واقعہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ غلط کاری کرنے والا لڑکا بھی نابالغ ہے۔ اس کی عمر محض 15 سال بتائی جا رہی ہے۔ چھوٹی بچی کے ساتھ عصمت دری کر ملزم فرار ہو گیا تھا۔ متاثرہ بچی کے گھر والوں کی شکایت کے بعد ملزم کی تلاش شروع ہوئی۔ پولس کے مطابق واقعہ کو انجام دے کر فرار ملزم نابالغ نوجوان کو واقعہ کے 2 گھنٹے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ فی الحال پولس ملزم نوجوان سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading