بہار: چھیڑخانی کی مخالفت کرنے پر تیزاب سے حملہ، 13 زخمی
بہار کے ویشالی ضلع واقع داؤد پور گاؤں میں مبینہ چھیڑخانی کی مخالفت کرنے والے ایک ہی فیملی کے 13 اراکین پر بدھ کو تیزاب پھینک دیا گیا جس میں دو خواتین سمیت سبھی لوگ سنگین طور پر جھلس گئے۔ ویشالی کے ڈپٹی پولس سپرنٹنڈنٹ راگھو دیال نے یہاں بتایا کہ منگل کو کسی بات پر داؤد پور گاؤں کے رہنے والے نند کشور بھگت کی فیملی کے اراکین کا کچھ لوگوں سے تنازعہ ہو گیا اور تنازعہ مار پیٹ تک پہنچ گیا۔ حالانکہ دونوں فریق میں مار پیٹ کے بعد معاملہ ختم بھی ہو گیا۔
بدھ کو دوسرے فریق کے لوگ غصے میں گھر میں گھسے اور فیملی کے اراکین پر تیزاب پھینک دیا۔ اس واقعہ میں دو خواتین سمیت ایک ہی فیملی کے 13 لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔
Bihar: 13 people including 3 women attacked with acid after a fight erupted between two groups in Vaishali's Daudnagar. Raghav Dayal, SDPO says, "People of one group attacked the other with acid. The injured are being treated at a local hospital.5 people arrested; probe underway" pic.twitter.com/tf3uZThaAn
— ANI (@ANI) August 28, 2019
کیرالہ: وائناڈ کے باؤلی گاؤں میں سیلاب متاثرین سے راہل گاندھی کی ملاقات
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اپنے پارلیمانی حلقہ وائناڈ کے دورہ پر ہیں۔ آج راہل گاندھی سیلاب سے متاثر لوگوں سے ملاقات کرنے باؤلی گاؤں پہنچے اور ان کی پریشانیوں کو سنا۔
Kerala: Congress Lok Sabha MP, Rahul Gandhi interacts with flood-affected people from his constituency at Bavali village in Wayanad. pic.twitter.com/orUbUvZLd7
— ANI (@ANI) August 28, 2019
یو پی میں خواتین محفوظ نہیں، زانیوں کے ساتھ کھڑی ہے بی جے پی حکومت: پرینکا گاندھی
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ اتر پردیش میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس دن بی جے پی حکومت خواتین کو یہ بھروسہ دلانے میں کامیاب ہو کہ آپ محفوظ ہیں، اور اگر آپ کے ساتھ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو آپ کو انصاف ملے گا۔ پرینکا نے کہا کہ آواز اٹھانے والی لڑکی لاپتہ ہے یا کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، کوئی نہیں جانتا۔ آخر یہ کب تک چلے گا؟
ایک دیگر ٹوئٹ میں سوامی چنمیانند سے عصمت دری کا کیس ہٹائے جانے کی خبر ٹیگ کرتے ہوئے پرینکا گاندھی لکھتی ہیں کہ ’’اتر پردیش میں یہ اناؤ معاملہ جیسا ہی دہراؤ لگ رہا ہے۔ اگر کوئی خاتون بی جے پی لیڈر کے خلاف شکایت کرتی ہے تو اس کو انصاف ملنا تو دور کی بات، اس کی خود کی سیکورٹی کی بھی گارنٹی نہیں رہتی۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’پچھلے ہی سال ملزم پر سے عصمت دری کا مقدمہ بی جے پی حکومت نے واپس لیا تھا۔ بہت صاف ہے کہ حکومت کس کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘
पिछले ही साल आरोपी पर से बलात्कार का मुकदमा भाजपा सरकार ने वापस लिया था। बहुत साफ है सरकार किसके साथ खड़ी है।
यूपी की लड़कियाँ सब देख रही हैं। #EnoughIsEnough pic.twitter.com/6cIzAU7Uzk
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) August 28, 2019
دفعہ 370 ہٹانے پر سپریم کورٹ کا مرکز کو نوٹس، اکتوبر میں ہوگی اگلی سماعت
جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے مسئلے پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے، سپریم کورٹ اب اس معاملے کی اگلی سماعت اکتوبر میں کرے گا، اس معاملے کو 5 ججوں کی آئین بنچ سنے گی۔
Supreme Court refuses a request from the Centre to appoint an interlocutor for Jammu & Kashmir. https://t.co/QnWhasbDpf
— ANI (@ANI) August 28, 2019
پاکستان کشمیر میں لوگوں کو مشتعل کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے: راہل گاندھی
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے۔ اس ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’جموں و کشمیر میں تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے اور اس کے لیے پاکستان ذمہ دار ہے۔ یہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک ہے اور یہ پاکستان کشمیر میں لوگوں کو مشتعل کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے ایک دیگر ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’میں اس حکومت (مودی حکومت) سے کئی ایشوز پر اختلاف رکھتا ہوں۔ لیکن میں یہ پوری طرح واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کشمیر ہندوستان کا داخلی ایشو ہے اور اس میں مداخلت کی اجازت پاکستان یا کسی دوسرے ملک کو نہیں ہے۔‘‘
There is violence in Jammu & Kashmir. There is violence because it is instigated and supported by Pakistan which is known to be the prime supporter of terrorism across the world.
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 28, 2019
ہریانہ: ریواڑی میں ڈھائی سال کی بچی سے عصمت دری، ملزم گرفتار
ہریانہ کے ریواڑی میں ایک ڈھائی سال کی بچی کے ساتھ عصمت دری کا غیر انسانی واقعہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ غلط کاری کرنے والا لڑکا بھی نابالغ ہے۔ اس کی عمر محض 15 سال بتائی جا رہی ہے۔ چھوٹی بچی کے ساتھ عصمت دری کر ملزم فرار ہو گیا تھا۔ متاثرہ بچی کے گھر والوں کی شکایت کے بعد ملزم کی تلاش شروع ہوئی۔ پولس کے مطابق واقعہ کو انجام دے کر فرار ملزم نابالغ نوجوان کو واقعہ کے 2 گھنٹے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ فی الحال پولس ملزم نوجوان سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔
Rewari: A 2.5-year-old girl was allegedly raped by a 15-year-old boy on August 26; the accused was arrested by police within 2 hours of the crime with the help of locals. Further investigation underway. #Haryana pic.twitter.com/DNt1VgrUXJ
— ANI (@ANI) August 27, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
