ڈاکٹر کفیل خان پر یو پی پولس نے لگایا این ایس اے
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام میں اب تک جیل میں بند گورکھپور کے ڈاکٹر کفیل خان پر یوگی حکومت نے ایک بڑی کارروائی کی ہے۔ یو پی پولس اور انتظامیہ نے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف قومی سیکورٹی قانون یعنی این ایس اے کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔ جمعہ کو ڈاکٹر کفیل خان ضمانت پر جیل سے باہر آنے والے تھے، لیکن ان پر این ایس اے لگائے جانے کے بعد مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔
پلوامہ حملہ کا ایک سال مکمل ہونے پر این سی پی لیڈر نواب ملک نے مرکز کی مودی حکومت سے ایک سوال پوچھا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’پلوامہ حملے میں 40 سی آر پی ایف جوان شہید ہو گئے۔ آج تک یہ پتہ لگانے کے لیے کوئی جانچ نہیں کی گئی کہ آر ڈی ایکس آخر کہاں سے آیا اور گاڑی جائے وقوع پر کیسے پہنچی؟ گاڑی کا ڈرائیور جیل میں تھا، وہ باہر کیسے آیا؟ جانچ ہونی چاہیے کیونکہ لوگ سچائی جاننا چاہتے ہیں۔‘‘
Maharashtra Min Nawab Malik: 40 CRPF men died in #PulwamaAttack.Till date, no inquiry has been commissioned to find out from where RDX came&how the vehicle reached the spot? Vehicle's driver was in jail. How did he come out? Probe should be conducted as people want to know truth. pic.twitter.com/ngY3zyXDLj
— ANI (@ANI) February 14, 2020
راہل گاندھی نے پلوامہ کے شہیدوں کو کیا یاد، پی ایم مودی پر اٹھائے سوال
ایک سال قبل پلوامہ حملے میں شہید ہوئے 40 سی آر پی ایف جوانوں کو یاد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پی ایم مودی سے راہل گاندھی نے تین سوال پوچھے ہیں اور کہا ہے کہ اس حملے سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا؟َ دوسرا سوال راہل گاندھی نے پوچھا ہے کہ حملہ سے متعلق جانچ کا حاصل کیا ہوا؟ راہل گاندھی کا تیسرا اور آخری سوال یہ تھا کہ بی جے پی حکومت میں سیکورٹی کی خامیوں سے متعلق ذمہ دار کون ہے جس کی وجہ سے یہ حملہ ممکن ہو سکا؟
Today as we remember our 40 CRPF martyrs in the #PulwamaAttack , let us ask:
1. Who benefitted the most from the attack?
2. What is the outcome of the inquiry into the attack?
3. Who in the BJP Govt has yet been held accountable for the security lapses that allowed the attack? pic.twitter.com/KZLbdOkLK5
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) February 14, 2020
نربھیا کے قصوروار ونے شرما کی عرضی پر آج سپریم کورٹ سنائے گا فیصلہ
سپریم کورٹ نے جمعرات کو نربھیا واقعہ کے چار قصورواروں میں سے ایک ونے شرما کی عرضی پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ اس عرضی میں صدر جمہوریہ کے ذریعہ اس کی رحم کی عرضی کو نامنظور کیے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس اشوک بھوشن اور اے ایس بوپنا کے ساتھ جسٹس آر بانومتی کی صدارت والی بنچ اس پر آج فیصلہ سنائے گی۔
دوسری طرف دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو نربھیا عصمت دری معاملہ میں ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کی عرضی پر سماعت 17 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے مانا کہ قصوروار اپنے قانونی حقوق کا استعمال کرنے کے حقدار ہیں اور ان کے بنیادی اختیارات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
2012 Delhi gang-rape case: Supreme Court to pronounce order on the issue of rejection of death row convict Vinay Kumar Sharma's mercy petition by President Kovind. pic.twitter.com/sc2ReRaArG
— ANI (@ANI) February 14, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو