چین میں کورونا وائرس سے اب تک 811 افراد کی موت
بیجنگ: چین میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 811 ہو گئی ہے جبکہ 37198 افراد میں اس مرض کے پھیل جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ چین کے قومی صحت کمیشن نے یہ اطلاع دی ہے۔ چین کے قومی صحت کمیشن کے مطابق کورونا وائرس کے 37198 معاملات کی تصدیق کی جا چکی ہے جس میں 6188 افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے اس وائرس سے 811 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 2649 لوگوں کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ اس سے پہلے ہبوئی صحت کمیشن نے کہا کہ صوبہ میں كورونووائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 780 ہو گئی ہے جبکہ صوبہ میں 1400 معاملہ درج ہوئے ہیں۔ دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں كوروناوائرس پھیلنا شروع ہوا تھا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 1370 كوروناوائرس کے معاملہ سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہبوئی صوبہ میں کل 2147 نئے کیس درج کیے گئے ہیں۔ چین کے علاوہ امریکہ سمیت کئی ممالک میں پر کورونا وائرس کے معاملہ درج کیے گئے ہیں۔
اڈیشہ میں بارتیوں سے بھری بس پر گرا بجلی کا تار، 6 کی موت، 40 زخمی
اڈیشہ کے ضلع گنجام میں ایک بس کے بجلی کے تار کی زد میں آنے سے 6 افراد کی موت ہوگئی۔ بس میں باراتی سوار تھے۔ بس میں سوار 40 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ایم کے سی جی میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔
Odisha: At least 6 persons dead and around 40 passengers injured after the bus they were travelling in caught fire after coming in contact with 11 KV live electric wire in Ganjam district, Brahmapur. Injured persons have been sent to MKCG Medical College and Hospital. pic.twitter.com/MFB6YsOIqN
— ANI (@ANI) February 9, 2020
کورونا وائرس کے 9452 مشتبہ افراد کی نگرانی
نئی دہلی: ملک کی 32ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں کورونا وائرس کے 9452مشتبہ افراد کی نگرانی کی جارہی ہے۔ صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت ریاستوں کے ساتھ ملکر ترجیحی بنیادپر سبھی احتیاطی اقدامات کر رہی ہے۔
سبھی ریاست بیماری کی روک تھام کے لیے بندوبست کو بہتر بنارہی ہیں ۔کورونا وائرس کےمشتبہ لوگوں کے 1510نمونوں کی جانچ کی گئی ہے جن میں سے 1507میں وائرس کی موجودگی نہیں ہے ۔کیرالہ کے تین نمونوں میں وائرس کی علامات پائی گئی تھیں۔
چین ،ہانگ کانگ ،سنگاپور اور تھائی لینڈ سے آنے والے سبھی طیاروں کی جانچ کی جارہی ہے ۔ملک کے سرحدی علاقوں کے ساتھ 21 بین الاقوامی ایئرپورٹس اور بین الاقوامی بندرگاہوں پر مسافروں کی صحت کی جانچ کی جارہی ہے ۔اب تک ایک لاکھ 97ہزار سے زیادہ مسافروں کی جانچ کی گئی ہے۔
شاہین باغ مظاہرین نے جنازہ لے جانے کے لئے راستہ دیا
دہلی کے شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں نے جنازے کے جلوس کو لے جانے کے لئے راستہ دیا ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک خاتون نے کہا کہ ہم دوسروں کا احترام کرتے ہیں اور شو یاترا (جنازے کے جلوس) کے لئے راستہ دے کر ہم نے کوئی خاص کام نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسکول بسوں اور ایمبولینسوں کو بھی راستہ دیتے ہیں۔
Delhi: Protestors allowed a funeral procession to pass through a road in Shaheen Bagh, earlier today. Shaheen, a protestor says "We respect each other and by allowing the procession to pass through, we have not done anything unusual. We have allowed buses&ambulances also". pic.twitter.com/kChuzRIAQW
— ANI (@ANI) February 9, 2020
کیجریوال جیتے تو یہ ترقی کے ایجنڈے کی جیت ہوگی، ادھیر رنجن
کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے کہا، ’’ہم نے پوری طاقت کے ساتھ دہلی اسمبلی انتخابات لڑے۔ اس انتخاب میں بی جے پی نے تمام فرقہ وارانہ ایجنڈوں کو آگے بڑھایا اور اروند کیجریوال نے ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ اگر کیجریوال جیت جاتے ہیں تو یہ ترقیاتی ایجنڈے کی جیت ہوگی۔
AR Chowdhury, Congress on #DelhiElections2020: We
fought this election with all our strength. In this election, BJP put forth all the communal agendas,& Arvind Kejriwal Ji put forth developmental agendas. If Kejriwal wins, then it will be a victory of the developmental agendas. pic.twitter.com/DbwuodH9uf— ANI (@ANI) February 9, 2020
15 جنوری کے بعد چین گئے غیر ملکیوں کو ہندوستان آنے کی اجازت نہیں
سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے کہا ہے کہ 15 جنوری یا اس کے بعد چین جانے والے غیر ملکیوں کو ہندوستان آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کی طرف سے یہ ہدایت چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک 800 سے زہادہ ہلاکتوں کے بعد جاری کی ہے۔
Directorate General of Civil Aviation: Foreigners who have been to #China on or after Jan 15, 2020, are not allowed to enter India from any air, land or seaport including Indo-Nepal, Indo-Bhutan, Indo-Bangladesh or Indo-Myanmar land borders. #coronavirus pic.twitter.com/oJewcAyzvI
— ANI (@ANI) February 9, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو