از…….. اسرارالحق عبدالعادل عالیاوی.استاد….. الھدیٰ اسلامک اسکول شیموگہ کرناٹک 7667170415
وطن عزیز میں مسلم معاشرہ آج جس تنزل , انحطاط اور پستیوں کا شکار ہے, زبان وقلم اس کو بیان کرنے سے قاصر ہے, عقیدۂ توحید, حسن عبادت, خوش معاملگی,پاکیذگی اخلاق اور بلندی کردار ایک مسلمان کی زندگی کا وہ زیور ہیں کہ جن کے باعث وہ سینکڑوں میں ایک نمایاں ہو جاتا ہے, لیکن آج مسلمانوں کی اکثریت ان صفات سے عاری ہو چکی ہے, عقائد کو لیجئے تو شرک و بدعت جو تمام تر اعمال انسانی اور اس کی عبادتوں اور ریاضتوں کے لئے ڈائنامائٹ کا درجہ رکھتے ہیں, وہ گویا بھٹی میں پڑ چکے ہیں اور انکی ہلاکت آفرینی کا انہیں کوئ احساس ہی نہیں ہے,.
عبادات کو لیجئے تو فریضہ نماز میں تساہل, فریضہ صیام میں تغافل اور فریضہ حج اور زکوٰۃ میں بے رغبتی, مختصر یہ ہے کہ مسلمانوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے ضمیر انگشت بدنداں ہے کہ الہی یہ ماجرا کیا ہے ؟ کیا یہ وہی مسلمان ہیں کہ جس کے اسلاف نے اخوت و محبت مؤدت و موافقت, دیانت و امانت تقویٰ و طہارت, خلوص و صداقت اور ایثار و جاں نثاری کا وہ روشن اور تابناک مثال پیش کئے تھے جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے,آج یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان نامساعد حالات میں امت کی اصلاح کیسے ہو, ؟ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وہ فریضہ ہے کہ امت مسلمہ جس کی مکلف قرار دی گئ اور جو ہر دور میں اس کا طرۂ امتیاز رہا ہے, اس فریضہ کو ہم کیسے ادا کریں ؟ جی ہاں یہ وہ سوالات ہیں کہ جس کے پس پردہ ایک بہت بڑی حقیقت معدوم ہوکر رہ گئی ہے, اور وہ ہے ہر شخص, ہر ذمہ داران اور خاص کر علماء عظام اور وارثین انبیاء کے ذمہ داران, اس میں دورائے نہیں کہ اس ڈوبی کشتی کے ملاح وارثین انبیاء کے سوا کوئ اور نہیں , تو آج ہم اپنی اس عظیم ذمہ داری کے احساس کو کیوں بھلا بیٹھے ہیں ؟
یہی وہ ذمہ داری ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عظیم ذمہ داری سے سرفراز کیا گیا نبوت کے 23 سالہ دور میں اس عظیم ذمہ داری کو آپ نے بحسن و خوبی ادا کیا,.معاشرے کے نوجوان اور خاص کر علاماء کرام اور خطباء عظام کے ہاتھوں میں قوم کی زمام اور انقلاب کی لگام ہوا کرتی ہے وہ جدھر چاہیں رخ موڑ سکتے ہیں, وہ قوم کے سربراہ اور اسکے ذمہ دار ہوتے ہیں, انہیں اس فرض منصبی کا احساس ضرور ہے, تاریخ گواہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیائے انسانیت دم توڑ رہی تھی, ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم تھا, رقص و سرور میں ڈوبے عیش پسند عاقبت نااندیش رہنماؤں اور بادشاہوں کو عوام کی ذرہ برابر بھی فکر نہ تھی, بلکہ وہ وقتا فوقتاً انہیں اپنے عتاب کا شکار بنائے رکھتے تھے, مگر یہ بادل چھٹا اور ایک آفتاب ہدایت کی شکل میں ایک عظیم ہادی نمودار ہوا جس نے لوگوں کو معرفت خداوندی کے ساتھ قیادت و سیادت کے اصول سمجھائے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی سے اس سوال کا جواب فراہم کیا ہے آپ کا فرمان ہے
” کلکلم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ {متفق علیہ}” تم میں کا ہر شخص ذمہ دار ہے ہر ایک سے اس کی رعیت کے سلسلے میں باز پرس ہوگی,.احساس جوابدہی کا یہی وہ محرک تھا جس نے صحابہ کرام کو ذمہ دار شخصیت بنا دیا جو دنیا والوں کے لئے نمونہ بنے, پھر دنیا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت یافتہ خلفائے راشدین کا دور بھی دیکھا کہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفتہ المسلمین ہیں, بیت المال کے ہوتے ہوئے بھی ان کی زندگی کسمپرسی میں گزری مگر رعایا کے سرمایہ کو اپنے ذاتی مصرف میں نہیں لائے اور غیر ضروری خرچ سے گریز کرتے رہے, انہوں نے پوری دوراندیشی اور احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیا, قیصر و کسریٰ کو فتح کرنے والے اور وسیع و عریض دنیا میں اسلام کا پرچم لہرا دینے والے خلیفہ ثانی امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھجوری کی چٹائ پر سوتے ہیں جس پر اس کے نشانات اُبھر آتے ہیں, انکی سادگی پر لوگوں کو معلوم کرنا پڑتا تھا کہ امیر المؤمنین کون ہیں ؟ ان کے احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ وہ رعایا کے احوال سے نہ صرف باخبر رہتے تھے بلکہ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے خود پیٹھ پر غلوں کا بوجھ اٹھا لیتے تھے کیوں کہ انہوں نے سرور عالم کو بدست خود خندق کھودتے دیکھا تھا,
تاریخ کے اوراق کو مزید پلٹ کر دیکھیں تو تابعین میں عمر ثانی عمر بن عبدالعزیز کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے, انہوں نے اپنے دور خلافت میں عدل و انصاف کا وہ کارنامہ انجام دیا کہ سینگ والی بکری بھی بغیر سینگ والی بکری کو مارنے سے گھبراتی تھی, آج ہم سبھی ذمہ داران اور ہر آدمی آپنے احساس ذمہ داری سے عاری ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے صالح قیادت و سیادت کا مفہوم الٹ گیا ہے آج ہر آدمی ہر ذمہ دار اسی طرح وارثین انبیاء دینی, معاشرتی اور سماجی احساس ذمہ داری سے غافل ہیں جس کی وجہ سے امت میں بے شمار بدعات و خرافات جنم لے رہے ہیں اور انہیں رتی برابر بھی اپنے ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے.ائے وارثین انبیاء کل قیامت کے دن جب خالق و مالک ہم سے اس ذمہ داری کے بارے میں پوچھے گا تو کیا ہم کچھ جواب دے پائینگے ؟ فرمایا اللہ رب العالمین نے سورہ اعراف آیت نمبر 6 کے اندر
"” فلنسئلن الذین ارسل الیھم و لنسئلن المرسلین ( الاعراف : 6) پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جس کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے,اسی طرح نوجوانوں کے تعلق سے مختصراً یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ , نوجوانوں کو اپنی زندگی مںی عقل وجذبات کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہے, کیونکہ جوانی میں جوش وجذبات کی کثرت ہوتی ہے اگر جذبات اور جوش کو شریعت مطہرہ کے تابع نہ کیا جائے تو باعث نقصان ہوتا ہے بہت سے جذبات انسان کو مجرم بنادیتے ہیں ایسے حالات میں ضروری ہے کہ نفسیاتی تربیت قرآن کے ذریعہ ہو دل کو ایمانی غدا دی جائے نیک لوگوں کے ہم رکاب بنیں اور نفسانی خواہشات کو شرعی طریقوں سے پورا کریں اس سے خوشحالی اور سعادت نصیب ہوگی نوجوان معاشرہ میں بھرپور اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں عزم وارادے کے مضبوط ہوتے ہیں منزلوں تک پہونچنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔اپنی موجودہ حالت سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے کیونکہ جوانی کے بعد بڑھاپا قوت کے بعد کمزوری صحت کے بعد بیماری کا خدشہ لاحق رہتا ہے،.جوانی میں وقت بہت قیمتی ہے اس کی اہمیت وقدر کرتے ہوئے شریعت مطہرہ کو اپنی زندگی اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے گذاریں,نوجوانوں کو دشمنان اسلام سے مکر وفریب کا سامنا ہے اس کے لئے شہوت سے بھری حرام چیزوں کو پیش کیاجارہا ہے ان کے جنسی جذبات سے کھلواڑ کیاجارہا ہے مسلم نوجوان کی شخصیت کو نابود مستقبل ضائع اور جوانی تباہ کی جارہی ہے اس صورت حال میں طریقہ نجات یہ ہے کہ نفسیاتی تربیت قرآن کریم کے ذریعہ ہو دل کو ایمانی غذا دی جائے نیک لوگوں کی صحبت کو غنیمت جان کر اختیار کیا جائے نفسیاتی خواہشات کو شریعت مطہرہ کے تابع کیا جائے وعظ ونصیحت کی مجلسوں میں پابندی سے شرکت کی جائے۔ وعظ ونصیحت نوجوانوں کی زندگی کے لئے روح کی حیثیت رکھتی ہے
ہرقوم کی اصل قوت اس کا اخلاق اور کردار ہے نیز اصل تربیت وہی ہے جو اپنے عمل سے چھوٹوں کو سکھائی جائے اور وہ تبھی ممکن ہے جب ہمارا کردار وعمل اسلامی طریقہ پر ہوگا, ہر کوئ اپنے اند احساس ذمہ داری پیدا کریں.مختصر یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کے اوپر ایک عظیم ذمہ داری ہے جس کا احساس ہمیں ہونا چاہئے,کیوں کہ قوم کا سربراہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ قوم کی خیر خواہی کرنا ،ہر طرح کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اس کی بہتری کی فکر کرنا ،اس کی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ عین فرض منصبی ہے۔ اسے اس کا احساس ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
والذین هم لامانٰتہم وعهدهم راعون (مومنون: 8 )
امانتیں اللہ کی ہوں یا لوگوں کی، اسی طرح عہد اللہ کے ہوں یا لوگوں کے ان کا خیال رکھنا مومن کا وصف ہے۔
ذمہ داری قبول کرنا بھی اللہ اور لوگوں سے عہد ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لا ایمان لمن لا امانة لہ، ولا دین لمن لا عہد لہ (ابن ماجہ)
اس شخص میں ایمان نہیں جس میں امانت داری نہ ہو اور اس شخص میں دین کا پاس ولحاظ نہیں جس کے اندر عہد کی پاس داری نہ ہو۔
ہم نے کلمہ پڑھ کر اللہ اور اس کے رسول سے کچھ عہد کرلیا ہے۔ اس کلمے کی برکت سے ہمارے کاندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے اور وہ ذمہ داری وہی ہے جو پہلے انبیائے کرام کی ہوتی تھی لیکن اب اللہ نے اس امت کو اس ذمہ داری کے لئے چن لیا ہے، چنانچہ کلمہ پڑھنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم مسلمان ہو گئے اور بس۔
بلکہ کلمہ پڑھ کر ہم نے عہد کرلیا کہ ہم نبیوں والا کام کریں گے ، اگر ہمیں اس کا احساس نہیں تو یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے۔
ایک روایت میں ہے جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا نگران بنایا پھر اس نے اس کی خیر خواہی کا خیال نہ رکھا اللہ اس پر جنت کو حرام کردیگا۔(بخاری 7150)
ایک روایت میں ہے جو نگران اپنے ماتحتوں سے خیانت کرے وہ جہنم میں جائے گا۔(مسند احمد)
ایک روایت میں ہے جو آدمی دس آدمیوں پر بھی نگران بنادیا گیا قیامت کے دن اس طرح پیش کیا جائے گا کہ اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوں گے پھر اس کا عدل اسے چھڑائے گا یا اس کا ظلم اسے عذاب شدید میں ڈال دے گا۔ (السنن الکبریٰ بیہقی)
اخیر میں دعا گو ہوں کہ وہ ہم سب کو خوشگوار زندگی نصیب کرے, ایمان و عمل کی سلامتی دے اور ہمیں تمام پریشانیوں, دکھوں اور صدموں سے محفوظ رکھے, اور اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے, آمین