کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات کی مسلسل معطلی سے طلباء سخت پریشان

سری نگر، 12 ستمبر (یو این آئی) وادی کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات پر گذشتہ ایک ماہ سے جاری پابندی کے باعث طلباء جہاں تعلیمی نقصان سے دوچار ہیں وہیں وہ ملکی یا غیر ملکی دانشگاہوں میں آن لائن داخلہ فارم جمع کرنے سے بھی قاصر ہیں جس کے باعث ان کے تعلیمی مستقبل پر تباہی کے سایے سایہ فگن ہیں۔
مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاریوں میں مصروف طلاب انٹرنیٹ کی خدمات بند رہنے کی وجہ سے ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔
امجد علی نامی ایک طالب علم نے یو این آئی ارود کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی نے میرے خوابوں کو چکنا چور کرکے رکھ دیا۔
انہوں: ‘میں ایک مسابقتی امتحان کی تیاری میں مصروف تھا، انٹرنیٹ خدمات سے مجھے کافی فائدہ پہنچ رہا تھا، میں نے مقررہ نصاب بھی کافی حد تک مکمل کیا تھا، لیکن گذشتہ زائد از ایک ماہ سے انٹرنیٹ بند ہے، میں اب کچھ کر ہی نہیں پارہا ہوں جس کے نتیجے میں میرے خواب چکنا چور ہورہے ہیں’۔
کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ارشد حسین نامی ایک طالب علم نے کہا کہ اںٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے میرا امسال امتحان میں فیل ہونا طے ہے۔
انہوں نے کہا: ‘میں یونیورسٹی میں ایم اے کررہا ہوں، میں انٹرنیٹ کو استعمال کرکے پڑھائی کرتا تھا اور ہر امتحان میں اچھے نمبرات حاصل کرتا تھا لیکن اب چونکہ انٹرنیٹ زائد از ایک ماہ سے مسلسل بند ہے، مجھے امید ہے کہ میں امسال امتحان میں فیل ہوجاؤں گا’۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading