اورنگ آباد: ہر سال کی طرح اس سال بھی کارپوریشن سے شہریان مایوس‘پریشانیو ں میں اضافہ

۱۵۰ ؍کروڑ کے راستے ۔متوازی پائپ اور ڈرینج پروجیکٹ ادھورے ‘ کچرے کا مسئلہ جوں کا توں

بس بہت ہوا‘اب کارپوریشن کو برخاست کردینا چاہئے ‘شہریان کا مطالبہ

اور نگ آباد:(جمیل شیخ):ہر سال کی طرح اس سال بھی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے شہریان کو نہ صرف مایوس کیا ہے بلکہ ان کی پریشانیو ںمیں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ۱۵۰ ؍کروڑ کے سمنٹ کانکریٹ راستے، متوازی پائپ لائن و ڈرینج سسٹم تبدیلی پروجیکٹ ادھورے ہیں۱۰؍ ما ہ سے شہر میں کچرا ٹھکانہ لگاناایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔

میونسپل کارپوریشن کی بے حسی اور لاپرواہی پہ اب لوگ یہ کہنے پر مجبو رہیں کہ بس بہت ہوا اب تو اس کارپوریشن کو فوری برخاست کردینا چاہئے۔ تفصیلا ت کے مطابق مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ نے شہریان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ کارپوریشن انتظامیہ سے بنیادی سہولتیں حاصل کریں۔ پانی لائٹ راستے اور لوگوں کو طبی وتفریحی سہولیات فراہم کرنا قانوناً کارپوریشن پر لازم ہے۔ نفع نہ نقصان کی بنیاد پر ہر فرد کو ۱۴۰ ؍لیٹر پانی یومیہ فراہم کرنا یہ کارپوریشن کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ۳۰ سال سے کارپوریشن پر برسرکار شیوسینا بی جے پی اتحادیوں نے ان ضوابط کے مطابق کسی شہری کو پانی فراہم نہیں کیا۔ شہر میں پانی کی قلت کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے اور ۲۴ گھنٹے لوگوں کو پانی فراہم کرنے کے مقصد سے مرکزی وریاستی حکومتوں نے جائیکواڑی ڈیم سے اورنگ آباد شہر تک متوازی پائپ لائن پروجیکٹ کو نہ صرف منظوری دی بلکہ اس پروجیکٹ کی تکمیل کے لئے کارپوریشن کو سینکڑوں کروڑ کی امداد بھی دی۔ لیکن مفاد عامہ کے اس پروجیکٹ کا کارپوریشن کے اندر او رباہر کے چند مفاد پرستوں نے ایک نااہل گتہ دار کمپنی اور نگ آباد سٹی واٹر یوٹلٹی کو ٹھیکہ دیا۔لیکن پائپ لائن پروجیکٹ اس کی تکمیل کے تعلق سے کیا گیا معاہدہ اور گتہ دار کمپنی تینوں تنازعہ کے شکار ہوئے۔ اور مجبوراًگتہ دار کمپنی سے کیاگیا معاہدہ رد ہوگیا اور آج تک یہ پائلٹ پروجیکٹ مکمل نہیں ہوپایا اسی طرح مرکزی وریاستی حکومتو ںنے نگر اتھان اسکیم کے تحت شہر کے ڈرینج سسٹم تبدیلی پروجیکٹ کو منظوری دی یہ پروجیکٹ شروع بھی ہوا اس پر ۳۰۰ کروڑروپیہ خرچ ہوجانے اور پروجیکٹ مکمل کرنے کی میعاد ہونے کے بعد بھی یہ پروجیکٹ ادھورا ہے اور اب تو گتہ دار کمپنی کھلارے اینڈ گھارپورے انفرااسٹرکچر پونے نے آگے پروجیکٹ کا کام مکمل کرنے سے ہی انکار کردیا۔

بی جے پی شیوسینا کے ۳۰دور اقتدارمیں تقریباًہر دوسال کو شہر کے راستوں کی تعمیر او رمرمت کی جاتی رہی کارپوریشن کی تجوری سے اس پر کروڑو ں روپئے خرچ کئے گئے باوجود ا سکے راستوں کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی تھی جس کے پیش نظر وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے شہر میں سمنٹ کانکریٹ کی تعمیر کے لئے پہلے ۲۴ کروڑ اور بعد میں ۱۰۰ کروڑ کی خصوصی امداد کارپوریشن کو دی ہے۔ لیکن اس ناکارہ کارپوریشن کے نااہل انجینئروں نے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ۲۴؍ کروڑ کے راستو ںمیں جم کر گھپلہ کیا یہ معاملہ اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ جہاں تک ۱۰۰ کروڑکے راستوں کا معاملہ ہے جو تقریباًایک سال سے کارپوریشن راستوں کا تعمیری کام شروع نہیں کرپائی اور مستقبل قریب میں بھی ان راستوں کے کام شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ۲۰۱۸ شروع ہونے پر ماہ فروری میں عدالتی حکم کے بعد نارے گائوں کچرا ڈپو پر کچرا ڈمپ کرنے کا سلسلہ ختم ہوا۔ جس کے بعد شہر میں کچرے کا مسئلہ پیدا ہوگیا میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ شہر میں یومیہ ساڑھے تین تا ساڑھے چارسو ٹن کچرا نکلتا ہے نارے گائوں ڈپو کا راستہ بند ہوجانے کے بعد شہر میں کچرا صفائی کچرے کی نکاسی اور کچرا ٹھکانے لگاناکارپوریشن کے سامنے ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔چونکہ کچرے کا مسئلہ لوگوں کی صحت سے جڑا ہوا تھا اسے بہانہ بناکر میونسپل کارپوریشن نے کچرا ٹھکانے لگانے کے نام پر بڑے پیمانے پر روپئے کی ریل پیل کی ہے۔ پہلے میونسپل وارڈوں میں کچرا گاڑنے کے لئے گڑھے کھودے گئے۔ جس پر بے حساب خرچ کیاگیا۔اس کے بعد ہرزون کی حدود میں کچرا ٹھکانے لگانے کے لئے پٹس تعمیر کئے گئے۔ اس پرکتنا خرچ ہوا کیسے ہوا ۔نہ تو یہ پوچھنے والا کوئی ہے اور نہ ہی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ عوام کو یہ بتارہا ہے۔ اب ریاستی حکومت کی امداد سے کچرا پروسیسنگ یونٹ لگانے کی بات کی جارہی ہے۔ شہر کے ۹ زون میں یہ یونٹ لگیں گے ۔یہا ںیومیہ کتنا کچرا کھاد میں تبدیل ہوگا۔یہاں کتنا کچرا کھاد میں تبدیل ہوگا۔ اور کیا یہ یونٹ ڈھنگ سے کام کرپائیں گے یہ بھی ابھی واضح نہیں ہے۔ گزرتے ہوئے سال کے دوران میونسپل کارپوریشن کے ٹائون پلاننگ ڈپارٹمنٹ میں ٹی ڈی آر کا گھوٹالہ بھی منظر عام پر آیا۔اس گھوٹالہ میں کئی سفید پوشوں کے علاوہ کارپوریشن کے اعلی افسران بھی شامل ہیں۔لیکن افسو س کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی خاطی افسر کو ایسی سزا نہیں دی گئی کہ جس سے سبق حاصل کیا جاسکے۔

حکومت نے اسی سال ڈاکٹر نپون ونائک کو میونسپل کمشنر مقر ر کیا جو کارپوریشن میں ڈسپلن قائم کرنے ،بدعنوانیوں کا خاتمہ اورلوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ہاتھ پیر مارتے دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن شہر کی عوام کارپوریشن کے بے ڈھنگے کام کا ج اور انتظامیہ کے طور طریقوں سے تنگ آچکے ہیں۔ اب وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ بس اب بہت ہوا حکومت اس کارپوریشن کو فوری برخاست کردیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading