اورنگ آباد:(جمیل شیخ): گزشتہ سال اطمینان بخش برسات نہ ہونے کے سبب ہرسول تالاب میں پانی کا ذخیرہ ہی نہیں ہوسکا تھا اور اب یہ تالاب مکمل طور پر سوکھ چکا ہے جس کا فائدہ اٹھاکر ریت مافیا یہاں سے مرم ریت او رپانی چرانے لگے ہیں
مگر انھیں روکنے ٹوکنے والا یہاں کوئی موجود نہیں ہے جس سے متعلق انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگتا دکھائی دے رہا ہے۔ سال1953 میں اس وقت کی ریاستی حکومت نے شہریان کی پانی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہرسول علاقہ میں ساڑھے تین سو ایکر زمین پر تالاب تعمیر کروایا تھا۔ اور جائیکواڑی تالاب کی تعمیر سے پہلے تک شہر کو اسی تالاب کے ذریعہ پانی فراہم کیاجاتا رہا۔ مگر جائیکواڑی ڈیم کی تعمیر کے بعد اے ایم سی انتظامیہ نے اس تالاب کو نظر انداز کردیا۔ اور میونسپل انتظامیہ کی لاپرواہیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس تالاب میں جن ذرائع سے پانی جمع ہوتا تھا
اطراف کے کسانوں نے انھیں بند کردیا اور پانی کا رخ اپنے کھیتوں کی طرف موڑ لیا۔ جس کی وجہ سے برسات کے موسم میں اس تالاب میں پانی کا ذخیرہ نہیں ہوپارہا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ گزشتہ سال اس تالاب میں پانی کا ذخیرہ نہ ہوسکا اور نومبر کے مہینے میں ہی تالاب سوکھنے لگا اور اب تو یہ تالاب مکمل طور پر سوکھ چکا ہے۔
لہذا میونسپل انتظامیہ نے تالاب سے گال نکاسی کے لئے ۵ افراد کو اجازت دی ہے مگر یہاں گال نکاسی کی بجائے ریت مافیا جے سی بی او رہائی وا گاڑیوں کے ذریعہ بے خوف وخطر ہو کر ریت مرم اور پانی چرانے لگے ہیں۔تالاب میں جگہ جگہ گہرے اور چورے گڑھے کردئے گئے ہیں جس سے اس تالاب کا وجود خطرے میں آچکا ہے مگر اس جانب توجہ دینے والا کوئی نہیں ہے جس سے متعلقہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور عوامی نمائندوں کی خامویش بھی معنی خیز ہے۔ شہر میں چرچے جاری ہیں کہ عوامی نمائندوں اور میونسپل عہدیداران کی پشت پناہی کے سبب ہی ریت مافیا کے حوصلے بلند ہیں اور میونسپل افسران ان کے خلاف کاروائی کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔