اورنگ آباد:(جمیل شیخ):دسویں وبارہویں امتحانات کے وہ سینٹرس جہاں سے نقل کئے جانے کی شکایتیں آرہی ہیں۔ ان سینٹرس کے خلاف فوجداری کیس کئے جائیں۔
یہ حکم ڈویژنل ایجوکیشن بورڈ نے ایجوکیشن آفیسر کو دی ہے۔ دسویں اور بارہویں امتحانات میں نقل پر قابو پانے کے لئے ڈویژنل ایجوکیشن بورڈ حرکت میں آچکا ہے۔ اگر کسی سینٹر پر کاپی ہوتی ہو تو سینٹر انچارج کے خلاف فوجداری کیس داخل کیا جائے۔ ڈویژنل ایجوکیشن بورڈ نے یہ ہدایت ایجوکیشن افسران کو دی ہے۔
اورنگ آباد جالنہ بیڑ اور پربھنی میں پیپر پھوٹنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ دسویں اور بارہویں کے امتحانات میں کاپی روکنے کے مقصد سے بورڈ نے پہلے ہی سرپرستوں کی میٹنگیں منعقد کرکے امتحانات میں نقل روکنے سے متعلق ان کی رہنمائی کرچکا ہے اسی طرح سینٹرس پر نقول روکنے کے لئے اسکواڈ قائم کئے جاچکے ہیں لیکن ان سب کے باوجود سینٹرس پر کاپی کئے جانے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔ اس لئے ڈویژنل بورڈ نے منسٹر انچارج کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ امتحانات کے دوران امبا جوگائی میں ایک ٹیچر کے ذریعہ موبائل پیپر وائرل کرنے کا واقعہ پیش آچکا ہے۔
منٹھا تعلقہ کے دہی پھل مقام پر بھی مراہٹی کا پرچہ وقت سے پہلے ہی تقسیم کردیا گیا تھا۔جس کی تصدیق خود ضلع کلکٹر نے کی تھی اور اس معاملے میں سینٹر انچارج کو ذمہ دار ٹھہرایاگیا ہے۔ اس واقع کے بعد ڈویژنل ایجوکیشن بورڈ چوکنا ہوچکا ہے اور نقل روکنے کے لئے اس نے کمر کس لی ہے۔