امتیاز جلیل کی کامیابی اور مسلمانوں کا سیاسی نفع نقصان

نوٹ بندی، بے روزگاری ،بڑھتے تعصب اور صرف لفّاظی سے پریشان اس ملک کی کروڑوں عوام سمیت ملک کے بیشتر سےاسی جانکاروں نے گذشتہ روز ظاہر ہوئے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کو سُننے کے بعد اپنی بھوَیں چڑھا لیں سوائے میڈیا چینلس کے جو انتخابات کے ختم ہوتے بی جے پی کی تین سو سے زائد نشستیں حاصل کرنے کا’اگزٹ پول ‘کی صورت میں راگ الاپ رہے تھے ۔ عوام کا ان نتائج پر حیرت کا اظہار کرنابھی لازمی معلوم ہوتا ہے چونکہ 2014ء لوک سبھا انتخابات میں جو مودی لہر تھی ، بی جے پی کی جانب’سب کا ساتھ ساب کا وکاس ‘ اور ’ اچھے دِن آنے والے ہیں‘ اس طرح کے نعروں کا لالی پاپ موجود تھا لیکن اس مرتبہ 2019ء لوک سبھا انتخابات میں ماب لنچنگ، نوٹ بندی، چوکیدار چور ہے ،بڑے قرض داروں کا ملک سے راہ فرار اختیار کرنا، جی ایس ٹی کے نقصانات،مندر اور پُلوامہ کی شہادت پر کی گئی سیاست جیسے دِل آزار موضوعات موجود تھے ۔

ان تمام موضوعات کی موجودگی کے باوجود بی جے پی کی گذشتہ کی لہر اس مرتبہ ’سونامی‘ کی طرح نتائج پر حاوی ہوئی اورسمرتی ایرانی جیسی امیدوار سے راہل گاندھی جیسے کانگریس صدر کو چار خانہ چِت ہونا پڑا۔ان تمام نتائج کے دوران ظاہر ہے ملک کا مسلم طبقہ مایوسی اور غم کا شکار ہوتا ہوا محسوس کیا جا رہا تھا لیکن شام ہوتے ہوتے مہا راشٹر اور خاص طور پر مراٹھواڑہ کے مسلم طبقہ کے دلوں سے مودی کی جیت کا اثر کم ہوکر ایک عجیب خوشی اور مسرت سرشار کر رہی تھی اور وہ خوشی مجلس اتحاد المسلمےن اور ونچیت بہوجن آگھاڑی کے امیدوار موجودہ ایم ایل اے سید امتیاز جلیل کے کامیابی کی جانب بڑھتے قدم کی تھی۔

شہر اورنگ آباد سمیت مراٹھواڑہ کے مختلف علاقوں مےں بعد نماز عصر بِلا تفریق سیاسی پارٹیوں کے عام مسلمانوں نے امتیاز جلیل کے حق میں دعا کے لئے رب ذوالجلال کے سامنے ہاتھ اٹھائے اور کچھ ہی دیر بعد انھیں یہ خوش خبری بھی ملی کے اُن کے ہاتھوں کی لاج رکھ لی گئی ہے۔
نتائج کے دوسرے دِن میڈیا ، سوشل میڈیا اور اخباروں نے ملک بھر کے نتائج کو اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ۔اورنگ آباد لوک سبھا کا نتیجہ اور امتیاز جلیل کی کامیابی کو بیشتر مراٹھی ،اُردو اور انگریزی اخباروں نے بڑے مثبت انداز میں پیش کیا جو کہ قابل ستائش ہے۔

مراٹھواڑہ سمیت مہاراشٹر کے مسلمانوں میں امتےاز جلیل کی کامیابی نے مودی کی اتنی بڑی کامیابی کا اثر کافور کر دیا اوریہ لوگ یہ تصور کرکے ہی خوش ہونے لگے کہ اب پارلیمنٹ میں ایک شیروانی نہیں بلکہ دو دو شیروانی میں ملبوس ایسے قائد ین داخل ہونے جا رہے ہےں جو ہماری آواز ایوان کے درو دیوار اور قانون سازوں کے کانوں کے پردوں تک ضرور پہنچا کر رہےں گے۔

نتائج آنے کے بعد جن سیاسی تجزےہ نگاروں نے یہ کہا کہ ’ونچیت بہوجن آگھاڑی ‘ کے مہاراشٹر کے سیاسی انتخابی میدان میں اُترنے سے لوک سبھا انتخابات میں کُل 12نشستوں پر بی جے پی کو کھلا فائدہ حاصل ہوا یا پھر سیکولر طاقتوں کو نقصان ہوااس لئے امتیاز جلیل کی کامیابی انھیں متوجہ نہیں کر سکی اُن کی توجہ کا مرکز اُن کے مطابق ونچیت آگھاڑی کے سبب ناکام ہوئے کانگریس راشٹروادی کانگریس کے امیدوار رہے۔

آخر کن نشستوں کے بارے میں ونچیت آگھاڑی کو لےکر بات ہو رہی ہے آئے دیکھیں۔

سب سے پہلے پربھنی کی بات کرتے ہیں ۔پربھنی میں شیو سینا کے سنجئے جادھو 538941ووٹ لےکر کامیاب ہوئے وہیں کانگریس کے راجیش وٹےکر 496742ووٹ حاصل کر سکے جبکہ ونچیت بہوجن آگھاڑی کے عالمگیر خان نے49946ووٹ حاصل کئے ۔اگر اجیش وٹےکر اور عالمگیر خان کے ووٹوں کی جمع کی جائے تو یہ46688اس طرح ہوتے ہیں اور یہ عدد کامیاب ہوئے امیدوار کے ووٹوں کی تعداد سے زیادہ ہے جس کے سبب کچھ کچھ لوگ یا سیاسی تجزےہ نگاریہ کہہ رہے ہیں کہ ےہاں ’ ونچیت ‘ کے سبب شیو سینا کو فائدہ ہوا ہے اور فرقہ پرست طاقتوں کو تقویت ملی ہے۔

اسی طرح سولاپور میں بی جے پی کے سدیشور سوامی 524985ووٹ لےکر کامیاب ہوئے اور کانگریس کے سشیل کمار شندے 366377ووٹ حاصل کر سکے جبکہ ’ونچیت‘کے پرکاش امبیڈکر نے70007ووٹ حاصل کئے۔ایوت محل واشم میں شیو سینا کی بھاونا گولی نے 542098ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور کانگریس کے امیدوار مانک راؤ ٹھاکرے 424159 ووٹ حاصل کر پائے جبکہ ’ونچیت‘ کے پروین پوار نے 94228ووٹ حاصل کئے۔

ناندیڑ میں بی جے پی کے پرتاپ راؤ چکھلی کر نے 486806ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور کانگریس کے اشوک چوہان 446658ووٹ حال کر پائے جبکہ ’ونچیت‘ کے یشپال بھنگے نے 166196 ووٹ حاصل کئے۔سانگلی میں بی جے پی کے سنجئے پاٹل نے 508995ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور سوابھےمانی شیتکری پارٹی کے وشال پاٹل نے 344643ووٹ حاصل کئے جبکہ ’ونچیت‘کے گوپی چند پڈاڑکر نے00234ووٹ حاصل کئے ۔

ہاتھ کنگلے میں شیو سینا کے دھیریہ شیل مانے نے 585776ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور سوابھیمانی شیتکری پارٹی کے راجو شیٹی 489737 ووٹ حاصل کر پائے جبکہ ’ونچیت‘ کے اسلم سید نے 123419 ووٹ حاصل کئے ،گڑچرولی میں بی جے پی کے اشوک نیتے نے 519968 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور کانگریس کے نامدیو اُسنڈی 442442 ووٹ حاصل کر پائے جبکہ ’ونچیت‘ کے رمیش کمار گجبے نے 111468 ووٹ حاصل کئے اسی طرح بلڈانہ میں شیو سنا کے پرتاپ راؤ جادھو نے 521977ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور کانگریس کے راجندر شنگنے 302959 ووٹ حاصل کر پائے جبکہ ’ونچیت‘ کے بلی رام شرسکر کو 172327ووٹ حاصل ہوئے ۔اس طرح کے معاملات مہاراشٹر کے 12 مقامات پر ہوئے اس طرح کی بات سامنے آ رہی ہے۔

مذکورہ بالا اعداد و شمار کو دےکھ کر ہی کچھ سےاسی تجزتہ نگار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’ونچیت‘ کی وجہ سے ان بارہ نشستوں پر سیکولر طاقتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرکاش امبیڈکر کی ونچیت آگھاڑی اور مجلس اتحاد المسلمین کے اتحاد سے کیا کوئی سیکولر مرکب تیار نہیں ہوتا؟ آخر کن پارٹیوں کو سیکولر سمجھ کر ووٹ دیا جائے ؟ٹھیک ہے بہت صورتوں میں کانگریس کو ووٹ دیا جا سکتا ہے لیکن کیا ہر صورت میں کانگریس ،یا راشٹر وادی کانگریس پارٹی کو ہی ووٹ دینا ضروری ہے؟اگر اورنگ آباد جےسی صورتحال بن جائے کیا تب بھی مسلم اور دلت اپنے اتحاد کی طاقت پر امتیاز جلیل جیسے صاف و شفاف شخصیت کے مالک اور اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدوار کو بھی ووٹ نہ دیں؟ یہ اور بات ہے کہ اورنگ آباد کی عوام نے خاص طور پر مسلمانوں اور دلتوں نے یہاں کی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ لیا تھا۔

بہر حال یوں دیکھا جائے تو امتیاز جلیل کی کامیابی سے یا یوں کہ ’ونچیت آگھاڑی‘ اور مجلس اتحاد کے امیدوار مہاراشٹر میں کھڑے رہنے سے مسلمانوں ،دلتوں اور کمزوروں کا فائدہ ہی ہوا ہے اس کو سجھنے کے لئے یوں تصور کیجئے کہ اگر امتیاز جلیل یا دیگر مقامات پر ونچیت آگھاڑی کے امیدوار انتخابات میں شریک نہیں ہوتے تو کیا اس مرتبہ کی ’ مودی سونامی ‘ آنے سے رُک جاتی ؟ کیا جن علاقوں میں کانگریس اور دیگر پارٹیوں کا صفایہ ہوا ہے ان ریاستوں میں ’ونچیت آگھاڑی اور مجلس اتحاد ‘ کے امیدوار میدان میں تھے؟ کیا مہاراشٹر کو چھوڑ کر دیگر ریاستوں میں ونچیت کے امیدواروں نے نام نہاد سیکولر طاقتوں کو نقصان پہنچایا ہے؟ کیا امیٹھی میں ونچیت آگھاڑی یا مجلس کا کوئی امیدوار موجود تھا جو راہل گاندھی کو یہ ہزیمت اٹھانی پڑی؟۔تو جواب نفی میں ہی ملے گا اور اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ آنے والے ہر انتخاب میں دلت مسلم اتحاد پر مبنی اس آگھاڑی کی ضرورت ہے صرف ضروری ہے کہ صحیح حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے اور کوئی بھی ایسا فیصلہ نہ ہو جہاں مبینہ طور پر مسلمانوں اور دلتوں کو نقصان ہو۔

لیکن ان تمام باتوں کے ساتھ اس بات کو بھی سجھنا ضروری ہے کہ ونچیت بہوجن آگھاڑی کے ذریعے جہاں ہمھیں امتیاز جلیل کی صورت میں فائدہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے وہیں نقصانات بھی بہت ہو سکتے ہیں اور کچھ حد تک ہوئے بھی ہےں ان سے تحفظ کے لئے مسلمانوں اور دلتوں کو اس کے لئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے اور ضمن میں سب سے بڑی احتیاطی تدبیر ’دلت مسلم ‘ اتحاد ہے جو ونچیت بہوجن آگھاڑی کے مہاراشٹر کے سیاسی میدان میں موجود رہنے سے ہونے والے نقصان نے بچا سکتی ہے اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں دس سے پندرہ یا اُس سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس دوران اگر ’ہرش وردھن‘ جیسا کوئی ٹریکٹر سوار اتفاق سے مل جائے یا شامل مقابلہ کیا جائے تو پھر کیا کہنے، سونے پہ سہاگہ ہی ہوگا!

مضمون نگار : سراج آرزوؔ، بیڑ ،مہاراشٹر ، موبائل نمبر : 9130917777

Email: sirajaarzu@gmail.co

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading