اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ’وسیع پیمانے‘ پر نئے فضائی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر فاتح بیرول کا کہنا ہے اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران سے کوئی بھی ملک ’محفوظ‘ نہیں رہ پائے گا۔
خلاصہ
ایسے کوئی شواہد نہیں کہ ایرانی میزائل لندن تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، برطانوی وزیر
اگلے 48 گھنٹے میں آبنائے ہرمز نہ کھولی تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا: ٹرمپ کی دھمکی
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا گیا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ سے منسلک توانائی کے انفراسٹرکچر پر جوابی کارروائی کرے گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج (اسرائیل ڈیفنس فورسز، آئی ڈی ایف) نے اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں۔
آئی ڈی ایف کے مطابق فضائی دفاعی نظام ان حملوں کو روک رہا ہے۔
اس سے پہلے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ’وسیع پیمانے پر‘ فضائی حملے کیے ہیں۔
تل ابیب پر رات کو ہونے والے ایرانی حملوں کی ایک اور لہر بھی روکی گئی، جس میں کلسٹر بم بھی شامل تھے۔
شیئر, ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں، آئی ڈی ایف کا دعویٰ
16 منٹ قبلاتوار کے روز اسرائیل کے خلاف 60 سے زیادہ آپریشن کیے، حزب اللہ کا دعویٰ
لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کے روز اس نے 63 عسکری کارروائیاں کیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق حزب اللہ نے ٹیلی گرام چینل پر شائع کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کے اندر اور جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کے خلاف میزائل، ڈرونز اور توپخانے کا استعمال کیا۔
حزب اللہ کی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل نے جنوبی لبنان میں زمینی حملہ شروع کیا ہے۔
یکم مارچ سے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1029 افراد ہلاک اور 2786 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔