ایپسٹین فائل میں وزیر اعظم کا نام آنا نہایت سنگین، آر ایس ایس نریندر مودی سے استعفیٰ لے: ہرش وردھن سپکال
کینیڈا امریکہ کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا، مودی کیوں خوفزدہ؟ سرسنگھ چالک 15 دن میں جواب طلب کریں: ایڈووکیٹ پرکاش امبیڈکر
ناگپور/ممبئی، 23 مارچ 2026
ایپسٹین فائل معاملے پر کانگریس اور ونچت بہوجن اگھاڑی کی جانب سے ناگپور کے سنویدھان چوک سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے مرکزی دفتر تک ایک مشترکہ احتجاجی مارچ نکالا گیا، جس میں بڑی تعداد میں لیڈرز اور کارکنان شریک ہوئے۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر ایڈووکیٹ پرکاش امبیڈکر نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ حکومت نے پولیس کے ذریعے مارچ کو روکنے کی کوشش کی اور اجازت دینے سے انکار کیا، مگر ہزاروں مظاہرین آر ایس ایس ہیڈ کوارٹر کے اطراف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ایپسٹین فائل میں وزیر اعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنا انتہائی سنگین اور باعثِ شرم معاملہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں جن افراد کے نام اس فائل میں آئے، انہوں نے استعفیٰ دیا یا ان کے خلاف کارروائی ہوئی، مگر ہندوستان میں اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی خود کو آر ایس ایس کی دین قرار دیتے ہیں اور جب تنظیم اخلاقیات اور ثقافت کی بات کرتی ہے تو اسی اصول کے تحت اسے مودی سے استعفیٰ طلب کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایپسٹین فائل میں مودی اور مرکزی وزیر ہردیپ پوری کے نام آنے کے بعد وزیر اعظم امریکہ کے سامنے جھک گئے ہیں اور اسی دباؤ میں کیے گئے تجارتی معاہدوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوامی مسائل پر خاموش ہے، ایندھن اور گیس کی قیمتوں پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آ رہا، جبکہ پارلیمنٹ میں بھی وزیر اعظم کی غیر موجودگی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پولیس پر دباؤ ڈال کر اپوزیشن کی آواز دبانا چاہتی ہے، لیکن اس کے باوجود احتجاج جاری رہے گا اور مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔
احتجاجی مارچ سے قبل سنویدھان چوک پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ وہ آئین اور ترنگا آر ایس ایس کو دینا چاہتے تھے، مگر سرسنگھ چالک موہن بھاگوت دہلی روانہ ہو گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس آئین کے بجائے اپنی نظریاتی دستاویز نافذ کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں آمرانہ طرزِ حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے ریاستی سیاست پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ ناسک کے مبینہ خودساختہ بابا اشوک خرات کے معاملے کو اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ معاملہ پروان چڑھ رہا تھا تو اس وقت کے ذمہ داران کہاں تھے اور اس کی ذمہ داری قبول کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ معاملات میں استعفے محض دباؤ کے تحت دیے جا رہے ہیں، نہ کہ اخلاقی بنیادوں پر۔
ایڈووکیٹ پرکاش امبیڈکر نے اس موقع پر کہا کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت امریکہ کے دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی پالیسیوں کے باعث ہندوستانی مصنوعات پر زیادہ ٹیکس عائد ہے جبکہ امریکی اشیاء کو رعایت دی جا رہی ہے، جو ملک کے مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایپسٹین فائل میں مودی کے حوالے سے سامنے آنے والی باتیں ملک کے وقار کے لیے نقصان دہ ہیں اور سوال اٹھایا کہ جب کینیڈا جیسے ممالک امریکہ کے دباؤ کے آگے نہیں جھکتے تو ہندوستان کیوں جھک رہا ہے۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت آئندہ 15 دن کے اندر وزیر اعظم سے جواب طلب کریں گے۔ امبیڈکر نے کہا کہ اگرچہ کانگریس اور ونچت بہوجن اگھاڑی کی نظریات مختلف ہیں، لیکن ملک، جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے دونوں پارٹیاں ایک ساتھ کھڑی ہیں اور اسی مقصد کے تحت یہ مشترکہ احتجاجی مارچ کیا گیا ہے۔
MPCC Urdu News 23 March 26.docx