دہلی: اسدالدین اویسی کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں اس سیاسی جماعت کی منظوری منسوخ کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ نے 16 جنوری 2025 کو یہ عرضی خارج کر دی تھی، جس فیصلے کو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ع
رضی گزار کا الزام ہے کہ AIMIM مکمل طور پر سیکولرازم کے اصول کی خلاف ورزی کرتی ہے، اس لیے اس کی سیاسی جماعت کے طور پر منظوری منسوخ کی جانی چاہیے۔ اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ میں منگل کو ہوگی۔AIMIM کے اندراج اور منظوری کو چیلنجیہ عرضی تروپتی نرسمہا مراری کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عرضی میں بھارت کے الیکشن کمیشن کی جانب سے AIMIM کو سیاسی جماعت کے طور پر دی گئی رجسٹریشن اور منظوری کو چیلنج کیا گیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ AIMIM نمائندگیِ عوامی ایکٹ 1951 کی دفعہ 29A کے تحت رجسٹرڈ ہے، حالانکہ اس کا واضح مذہبی کردار اور مقصد صرف مسلم کمیونٹی کے مفادات کو پورا کرنا ہے۔وکیل وشنو جین کی طرف سے دائر کی گئی اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ AIMIM کھل کر خود کو ایسی پارٹی کے طور پر پیش کرتی ہے جو مسلم طبقے کے مفادات کی حفاظت کے لیے بنی ہے۔ یہ ایک فرقہ وارانہ جماعت ہے اور سیکولرازم کے اصول کی سنگین خلاف ورزی کرتی ہے جو الیکشن کمیشن کے تحت رجسٹریشن کی بنیادی شرط ہے۔