ہندوستان کی سیاست مندر، مسجد اوررام رحیم کے ارد گرد گھومتی ہے۔ سیاستداں جہاں رام مندراوربابری مسجد کو لیکراپنی سیاسی روٹی سینک رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف مساجد کولے کرکچھ لوگ غلط فہمی بھی پھیلا رہے ہیں۔ احمد آباد کے مسلم نوجوانوں نے ایسے سیاستدانوں کو آئینہ دکھانے کا کام کرتے ہوئے ایک شاندارپہل کی شروعات کی، جس کے تحت غیرمسلموں کو مسجدوں میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے غیرمسلموں کو مسجد میں بلا کراسلام کی دعوت نہیں بلکہ مساجد میں کیا کچھ ہوتا ہے اس کے بارے میں جانکاری دی۔دراصل احمد آباد کے رکھیال علاقے میں موجود مسجد ”عمربن خطاب” میں غیرمسلموں کے لئے خصوصی طورپر”آؤمسجد کی ملاقات لو” کے عنوان پرایک پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس میں شرکت کے لئے بڑی تعداد میں غیر مسلموں کو مدعو کیا گیا تھا ۔ وہ دعوت کو قبول کرکے مسجد پہنچے اور روضو کرنے سے لے کرنماز پنجگانہ، نمازجمعہ، نماز عیدین اورتہجد کی نمازکیوں پڑھی جاتی ہے، اس کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔
ہندو برادری کے لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مسلم برادری کے لوگوں سے گلے ملے اور یہ شاندارموقع دینے کے لئے شکریہ ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔ مسلم برادری کے جانب سے کی گئی اس پہل سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوستان کے لوگ اب نفرت نہیں آپسی بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ لیکن سوال ایک بارپھرسے وہی اٹھتا ہے کہ قومی اتحاد کو فروغ دینے کی کوششیں اکثرایک طرف سے ہی کیوں ہوتی ہے۔
#Ahmedabad #Masjid #Islam #Muslims #Hindu Darul Uloom Deoband Darul Uloom Deoband Ne Islam Ka Parcham Duniya Me Lehraya