احتشام بلال کی داعش میں شمولیت کی تصدیق ہونا باقی : لیفٹیننٹ جنرل

بارہمولہ 12نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) فوج کی 15 ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل انیل کمار بھٹ نے کہا کہ خانیار سری نگر کے جواں سال طالب علم احتشام بلال صوفی کی دولت اسلامیہ (اسلامک اسٹیٹ) میں شمولیت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حقائق جاننے کی کوشش جاری ہے ۔لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں جنگجو[؟]ں کے خلاف آل آوٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مسلح نوجوان چاہیں تو آپریشن کے دوران بھی خودسپردگی اختیار کرسکتے ہیں۔15 ویں کور کے جی او سی پیر کے روز یہاں حیدربیگ پٹن میں قائم 10 سیکٹر ہیڈکوارٹر میں واقع زورآور ہال میں منعقدہ آرمی گڈول اسکولوں کی ایک مشترکہ تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کررہے تھے ۔لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے اترپردیش کے گریٹر نوئیڈا علاقہ سے لاپتہ ہوئے شاردا یونیورسٹی کے کشمیری طالب علم احتشام بلال جنہوں نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیوز اور ایک تصویر کے مطابق اسلامک اسٹیٹ جموں وکشمیر نامی جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کی ہے ، کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا ‘پہلی بات تو یہ ہے کہ احتشام کی اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے ۔ اس نے آئی ایس جے کے میں شمولیت اختیار کی ہے یا نہیں، اس کی تصدیق ہونا باقی ہے ۔ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے ۔ میری کشمیر کے نوجوانوں کے لئے ہمیشہ یہ اپیل ہوتی ہے کہ آپ اپنا مستقبل سنوارنے کے لئے انڈیا کے قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ بھارت آگے بڑھ رہا ہے اور انہیں بھی ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر آگے بڑھنا چاہیے ‘۔لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے شاردا یونیورسٹی میں 4 اکتوبر کو احتشام سمیت دو کشمیری طالب علموں کے ساتھ پیش آئے زدوکوب کے واقعہ پر کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبائکا خاص خیال رکھا جانا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا ‘میں آپ کی بات سے بالکل اتفاق رکھتا ہوں۔ ریاست کے گورنر (ستیہ پال ملک) نے وہاں کے وزیر اعلیٰ(یوگی ادتیہ ناتھ) سے بات کی تھی۔ میری بھی یہ اپیل ہے کہ ہندوستان میں جہاں کہیں بھی ہمارے کشمیر کے بچے پڑھ رہے ہیں، ان کا خاص خیال رکھا جائے ‘۔لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں جنگجو[؟]ں کے خلاف آل آوٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ‘میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ آل آوٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں ہے ۔ جہاں کہیں بھی نوجوان ہتھیار اٹھائے گا ، ہم اسے برباد کریں گے ۔ ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ کشمیری نوجوان اگر آپریشن کے دوران بھی خودسپردگی اختیار کرنا چاہیں گے انہیں وہ موقع دیا جائے گا’۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading