بھیونڈی (شارف انصاری ) :- بھیونڈی نظام پور شہر میو نسپل کارپوریشن کے ذریعہ نجی ٹھیکیدار کے ذریعہ پرا پرٹی ٹیکس (گھر پٹی اور پانی پٹی ٹیکس) کو وصولنے کی تجویزکے خلاف بروز پیر ۱۲؍ نو مبر کو راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے صدر محمد خالد گڈو کی قیادت میں بھیونڈی نظام پور شہر میو نسپل کارپوریشن کے صدر دفتر پر باغ فردوس مسجد کے مقابل واقع حفیظ پٹرول پمپ سےبھیونڈی میو نسپل کارپوریشن کے صدر دفتر پر ’جن آکروش مورچہ‘ کا انعقاد کیا گیا۔ مذکورہ مورچہ میں پارٹی کے رضا کار و لیڈران، خواتین اورشہریوں سمیت بڑی تعداد میں نوجوان شریک تھے۔اس موقع پر میو نسپل کارپوریشن کے صدر دروازے پر انتظامیہ کے خلاف فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئےمورچہ میں شامل افراد نے احتجاجی مظاہرہ کر تے ہوئے میو نسپل کارپوریشن کے ذریعہ پرا پر ٹی ٹیکس کو نجی ٹھیکیدار کے ذریعہ وصول کر نے کے فیصلہ کی جم کر مذمت کی۔
اس احتجاجی مظاہرہ کےدوران مطالبہ کیا گیا کہ کسی بھی حالت میںمیو نسپل انتظامیہ پرا پرٹی ٹیکس (گھر پٹی اور پانی پٹی ٹیکس) کی وصولیابی کے لیے نجکاری کی قرارداد کو منظور نہ کرے۔ راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے ذریعہ اس احتجاجی مورچہ کے دوران ایک رضاکار کو میئر کی شبیہ دے کر اسےپراپرٹی ٹیکس فروخت کر نے والا بتایا گیا تھا۔جبکہ میو نسپل انتظامیہ کے ذریعہ قانو نی طور پر ٹیکس وصول نہ کر نے پرراشٹر وادی کانگریس کے شعبہ خواتین کے رضاکاروں نے میو نسپل کارپوریشن کے صدر دروازے پر چوڑیاں پھینک کر اپنا احتجاج درج کروایا۔اس ’جن آکروش مورچہ‘ میں راشٹر وادی کانگریس کے کارگذار شہر ضلع صدر انیل پھڈ ترے،بھیونڈی شہر ضلع شعبہ خواتین کی صدر سواتی کامبلے،بھیونڈی مشرقی حلقہ اسمبلی کے صدر ممتازانصاری،بھیونڈی مغربی حلقہ اسمبلی کے صدرشہادت حسین انصاری،شہر ضلع صدر بلبیر سنگھ والیا، سیوادل صدر غلام خان، اوبی سی سیل کے صدر ثاقب مومن، پارٹی کےترجمان فیٖ عالم شیخ، عارف علوی سمیت سینکڑوں شہری، خواتین، نوجوان اور بڑی تعداد میںراشٹر وادی کانگریس پارٹی کے رضاکار موجود تھے۔

واضح ہو کہ بھیونڈی میو نسپل انتظامیہ نے پرا پر ٹی ٹیکس(گھر پٹی اور پانی پٹی ٹیکس) وصول کر نے کا ٹھیکہ نجی ٹھیکیدار کو سو نپنے کا فیصلہ کیا ہے۔میو نسپل انتظامیہ کے وصولی محکمہ کی جانب سے شہریو ں سے پرا پرٹی ٹیکس وصول نہ ہو نے سے میو نسپل انتظامیہ شہر کی ترقیاتی کاموں کو ہاتھ میں نہیں لے سکتی یہ جواز بتا کر میو نسپل انتظامیہ نے نجکاری کا یہ فیصلہ کیا ہے۔خصوصاً گھر پٹی اور پانی پٹی کی وصولیابی کے لیے شہریوں کو ٹیکس کی ادائیگی کی حوصلہ افزائی کر نے کی بجائے نجی ٹھیکیدار کو پرا پر ٹی ٹیکس کا ٹھیکہ دینے کی سازش رچنے سے شہریوں میں میو نسپل انتظامیہ اور بر سر اقتدار کانگریس پارٹی اور شیو سینا کے خلاف زبردست ناراضگی اور بر ہمی پائی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ بھیونڈی میو نسپل کارپوریشن کے جنرل بورڈ کا اجلاس ۱۳؍ نومبر کو منعقد کیا جا رہا ہے۔اس اجلاس میں پرا پرٹی ٹیکس(گھر پٹی اور پانی پٹی) کو وصول کر نے کا نجی ٹھیکہ دینے کے تعلق سے قرارداد منظور کیے جانے کی چر چا شہر بھر میںمو ضوع بحث ہے۔ اس ضمن میں راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے شہر ضلع صدر محمد خالد گڈو نے صحافیوں سے گفتگو کر تے ہو ئے بتایاکہ اسی وجہ سے شہریوں کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ میو نسپل انتظامیہ پرا پرٹی ٹیکس وصولی کا ٹھیکہ نجی ٹھیکیدار کو دے کر ان سے جبراً ٹیکس کی وصولی کرے گی۔ان ہی اسباب کی بنا پر راشٹر وادی کانگریس پارٹی نے میو نسپل انتظامیہ کے ذریعہ پرا پرٹی ٹیکس کی نجکاری کے فیصلہ کی سخت مخالفت کی ہے۔انھوں نے مزید بتایا آج ہم کہ انتظامیہ کے اس تغلقی فرمان کا ’جن آکروش مورچہ‘ کے ذریعہ سخت مذمت کر تے ہو ئے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس لیے انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ ہمارے مورچہ کے ذریعہ کی جانے والی مخالفت پر توجہ دے اور نجکاری کے فیصلہ کی قرارداد کومنظور نہ کرے۔بصورت دیگر میو نسپل انتظامیہ کے خلاف اس سے سخت مظاہرہ کیا جائے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ قانوناً ایجینڈہ میں شامل تجویزکو واپس نہیں لیا جاسکتا اور نہ ہی اسے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ جنرل بورڈ کے اجلاس کو منسوخ کیا جائے۔ اگر کونسل میں کارپوریٹروں کی تعداد کے حساب سے تجویز ناکام ہو تی ہے تو میو نسپل کمشنر اپنےخصوصی اختیارات سے اسے ریاستی سرکار کو روانہ کرسکتے ہیںاس لیے جنرل بورڈ کے اجلاس سے قبل ایسا کر نا صریحاً غیر قانو نی ہے۔