40 منٹ کی گفتگو کے باوجود کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا: مہیش تپاسے
این سی پی (ایس پی) کا مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال، عالمی سطح پر ہندوستان کے کردار پر تشویش کا اظہار
ممبئی: ملک کی خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر ہندوستان کے کردار کو لے کر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) نے مرکزی حکومت پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ پارٹی کے ترجمان مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ہندوستان کی سفارتی حیثیت کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی مبینہ 40 منٹ کی طویل بات چیت کے باوجود اگر کوئی واضح یا عملی نتیجہ سامنے نہیں آتا تو اس کی افادیت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ آج کے عالمی حالات میں جہاں مختلف ممالک امن مذاکرات اور سفارتی عمل میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، وہاں ہندوستان کی غیر موجودگی یا غیر مؤثر موجودگی باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان عالمی فیصلوں میں کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کر رہا تو اس سے ملک کی بین الاقوامی حیثیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محض علامتی بیانات اور طویل گفتگو سے حقیقی سفارتی اثر و رسوخ قائم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ٹھوس اقدامات اور واضح حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے اروناچل پردیش کے مختلف علاقوں کو چینی نام دینے کی چین کی کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ مہیش تپاسے نے کہا کہ اس معاملے پر صرف بیانات دینا کافی نہیں ہے بلکہ حکومت کو فوری طور پر مؤثر سفارتی اقدامات کرنے چاہئیں اور چینی قیادت سے سنجیدہ سطح پر بات چیت کرنی چاہیے تاکہ ایسے اقدامات کو روکا جا سکے۔
خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر انہوں نے شرد پوار کے کردار کو نمایاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں مقامی خود مختار اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے میں شرد پوار کا کلیدی کردار رہا ہے، جسے بعد میں مزید وسعت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے کے لیے شرد پوار نے برسوں پہلے جو اقدامات کیے، وہ آج بھی قابلِ تقلید ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین ریزرویشن بل پر ہونے والی بحث میں شرد پوار کے کردار کو مناسب اہمیت دی جائے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔
بہار کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مہیش تپاسے نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں علاقائی لیڈروں کو کمزور کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں نتیش کمار کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ مہاراشٹر کی سیاسی صورتحال سے مشابہت رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہار کے عوام سیاسی طور پر باشعور ہیں اور وہ ایسے حالات کا جلد جواب دیں گے۔ مہیش تپاسے نے زور دے کر کہا کہ ملک کے اہم قومی اور بین الاقوامی معاملات پر حکومت کو سنجیدہ اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ ہندوستان کی عالمی سطح پر حیثیت مستحکم ہو اور عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔
NCP-SP Urdu News 15 April 26.docx
