ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی اور ایرانی قوم کبھی بھی ایسے رویے کو قبول نہیں کرے گی۔
بدھ کے روز تہران کے ایمرجنسی سروسز کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ تہران جنگ یا عدم استحکام کا خواہاں نہیں ہے۔
اس کے بجائے صدر نے کہا کہ ’[ایران] نے ہمیشہ مختلف ممالک کے ساتھ تعمیری بات چیت اور روابط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اگلے دو دنوں میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حزب اللہ کے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے
لبنان کے ایران نواز مسلح گروہ حزب اللہ نے بدھ کے روز شمالی اسرائیل میں کئی راکٹ داغے ہیں۔
ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حملے ’اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ہمارے ملک اور ہمارے لوگوں پر اسرائیلی امریکی جارحیت بند نہیں ہوتی۔‘

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا حملوں نے کوئی نقصان پہنچایا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کی تعداد 30 کے قریب تھی۔ جبکہ حزب اللہ نے اسرائیل پر اور لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر 24 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔