نئی دہلی:24ڈسمبر(ایجنسیز)سپریم کورٹ 4جنوری2019 کو بابری مسجد- رام جنم بھومی کے مالکانہ حق سے متعلق دائرعرضیوں پرسماعت کرسکتا ہے۔ اس معاملے کو چیف جسٹس رنجن گوگوئی اورجسٹس ایس کے کول کی بینچ کے سامنے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔بینچ کے اس معاملے میں سماعت کے لئے تین ججوں کی بینچ کی تشکیل کرنے کا امکان ہے۔ چاردیوانی وعدوں پرالہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 14 اپیل دائرہوئی ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ 4 جنوری 2019 سے باضابطہ طورپرسماعت شروع ہوسکتی ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ 2.77 ایکڑزمین کو تینوں فریق سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اوررام للا کے درمیان برابربرابرتقسیم کردی جائے۔ اسی درمیان مرکزی وزیرپرکاش جاوڈیکرنے کہا کہ مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ رام جنم بھومی- بابری مسجد معاملے میں روزانہ سماعت کی جائے۔واضح رہے کہ بابری مسجد اوررام مندرمعاملے کو لے کرحالیہ دنوں میں زبردست گہما گہمی دیکھنے کو ملی تھی۔ بابری مسجد کے مaعاملے کی قانونی چارہ جوئی کرنے والے فریق کا کہنا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، اس لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ دوسری طرف سادھو سنتوں اوربی جے پی سے منسلک ایک بڑا طبقہ مسلسل رام مندرکی تعمیرکا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ وہیں بی جے پی کی اتحادی جماعتیں جنتا دل یونائیٹیڈ اورلوک جن شکتی پارٹی بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظارکرنے کی بات کررہی ہیں۔ اس طرح حکومت بھی اس معاملے پرسخت دباو ہونے کے بعد بھی ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھا پارہی ہے۔