نئی دہلی: ہندوستانی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کے پاکستان سے بھارت لوٹنے کے بعد سے بی جے پی اسے اپنی سرکار کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طور پر دکھا رہی ہے۔
لیکن کانگریس اور عام آدمی پارٹی سمیت کئی اپوزشن جماعتیں کشمیر میں امن اور تناؤ کے ماحول میں سیاسی تشہیر کرنے کے لئے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اور ایم پی اسدین اویسی نے بھی مرکزی حکومت کو اس موضوع پر گھیرنے کی کوشش کی ہے۔
حیدرآباد میں اپنی پارٹی کے 61ویں یوم تاسیس تقریب میں انہوں نے کہا ہے که اگر کوئی سیاسی پارٹی ہندوستان کے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں پر سیاست کریگی تو وہ اسکی سخت مخالفت کرینگے۔
اسکے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پر بھی طنز کستے ہوئے کہا که عمران خان کہتے ہیں که انکے پاس ایٹم بم ہے، تو کیا ہندستان کے پاس نہیں ہے اور وہ جیش شیطان اور لشکر شیطان کو ختم کریں۔
بی بی سی ہندی نے پلوامہ حملے کے بعد بگڑے بھارت پاکستان کے رشتوں پر ہوتی سیاست پر اسدین اویسی کے ساتھ خاص بات چیت کی۔

سوال جیش کا نام کیوں نہیں لیتے عمران خان؟
پاکستان میں باغیوں کو لیکر پاک سرکار کا رخ بیحد ہی سیلیکٹو ہے۔
کیونکہ انکے وزیرخارجہ نے خود ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا که انکے پاس مسعود اظہر ہیں اور وہ کافی بیمار ہیں۔اسکے بعد جب ان سے پوچھا گیا که انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا تو انہوں نے کہا که اگر انہیں کارروائی کرنے لائق ثبوت دیا جائیگا تو وہ اس پر کارروائی کرینگے۔وہ یہ نہیں کہتے ہیں که مسعود اظہر کی تنظیم پر یونائٹیڈ نیشنس نے پابندی لگائی ہے جو که اپنے آپ میں ایک بڑا ثبوت ہے۔
لشکر طیبہ کے چیف حافظ سعید کے سر پر انعام ہے۔ تنظیم پر بھی یواین نے پابندی لگائیی ہوئی ہے۔اور ممبئی حملے میں انکا رول ثابت ہو چکا ہے۔ اسکے علاوہ وہاں پر لکھوی بھی ہے۔ایسے میں اگر عمران خان کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا ہے تو یہ تعجب کی بات نہیں ہے۔بلکہ، اس سے صاف پتہ چلتا ہے که وہ انکی حفاظت کرتے ہیں۔
سوال پلوامہ حملے کی کیا وجوہات رہیں؟
پلوامہ حملے کی بات کریں تو اس خودکش دھماکے سے جڑے ایک ویڈیو میں حملہ آور نے قبول کیا ہے که وہ کس دہشت گرد تنظیم سے جڑا ہوا تھا۔
ایسے میں وزیراعظم کو یہ سوچنا چاہئیے که اتنی بڑی تعداد میں آر ڈی ایکس وہاں پر کیسے پہنچا اور اسکا ذمی دار کون ہے؟
اسکے بعد حملے کے لئے ذمی دار لوگوں کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہئیے۔

لیکن یہ حملہ ایک سیاسی ناکامی بھی ہے کیونکہ فی الحال وہاں پر گورنر رول ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی اور پی ڈی پی کی سرکار تھی جس نے کسی طرح کی گورنینس نہیں کی۔
اگر یہ سرکار کام کرتی تو گھاٹی کے نوجوان اتنی بڑی تعداد میں شدد پسندی کی جانب نہ بڑھتے۔
سوال مسعود اظہر کو کیوں بچاتا ہے چین؟
یہ بھارت کا ڈپلومیٹک فیلیئر ہے۔ کیونکہ چین مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کئے جانے کے لئے تیار نہیں ہو رہا ہے۔
جبکہ بھارت نے وہ ان سمیلن میں حصہ لیا۔
چینی صدر کے بھارت آنے پر وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں احمدآباد میں جھولا بھی جھلا دیا لیکن اسکے بعد بھی کوئی بات نہیں بنی۔
کیا مسلمانوں کو رحمدلی کی امید چھوڑ دینی چاہئیے!
‘جو فٹ نہیں ہوتے انہیں راشٹردروہی کہا جا رہا’
سوال قومی دھارے میں کیسے آئیں کشمیری نوجوان؟
کشمیر میں نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے کئی قدم اٹھائے جاسکتے ہیں۔
اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے که وہاں پر انتظامیہ کو درست کیا جائے۔ جب پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا اور کئی نوجوانوں کے آنکھوں کی روشنی چلی گئی تب میں کشمیر گیا تھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے که جب راجناتھ سنگھ کے ساتھ ایک کل جماعتی وفد کشمیر گیا تھا تو الگ الگ جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔ اس وقت میں نے بھی اپنی جانب سے 11-12 پوائنٹ دیئے تھے۔

پیلٹ گن سے زخمی لڑکی
مگر افسوس که ہماری رائے کس کونے میں دھول کھا رہی ہیں، یہ مجھے آج تک نہیں پتہ۔
یہ بہت ضروری ہے که وہاں کی سرکار نوجوانوں میں اپنے تئیں بھروسہ پیدا کرے اور انہیں اپنے ساتھ جوڑ نے کی کوشش کرے۔
سوال کیا ان حالات میں میں پاکستان کے ساتھ بات چیت ممکن ہے؟
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان لگاتار بات چیت کرنے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن جب تک عمران خان ممبئی حملے کے خاطیوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تب تک دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں؟
اسکے بعد مسعود اظہر کی تنظیم مسلسل ہندستان میں دہشتگردی کو بڑھاوا دینے کی بات کرتا ہے۔
بھارت سرکار کا رخ بھی یہی ہے که جب تک پاکستان دہشتگردی کے خلاف قدم نہیں اٹھاتا ہے تب تک دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہو سکتی۔
(گروپیت سونی: بی بی سی ہندی دہلی)