عوامی مسائل کے حل کے لئے میں ہمہ وقت تیار ہوں
چاندیولی حلقہ اسمبلی کے مساجد، مدارس اور اسکولوں کے ذمہ داران کی مشاورتی میٹنگ میں نسیم خان کا اعلان
ممبئی: چاندیولی حلقہ اسمبلی کے مساجد، مدارس، اردو اسکولوں اور قبرستانوں کے ذمہ داران کی آج یہاں انجمن نورالاسلام تلک نگر ساکی ناکہ میں ایم ایل اے نسیم خان کی موجودگی میں سالانہ مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں شرکاءنے اپنے اپنے اداروں کو درپیش مسائل کو تحریری شکل میں پیش کیا ، جس کے بعد نسیم خا ن نے فوقیت کی بنیاد پر انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ واضح رہے کہ ہرسال یہ مشاورتی میٹنگ منعقد ہوتی ہے جس میں نسیم خان اپنے حلقہ اسمبلی میں واقع تمام اداروں کے ذمہ داران کو مدعو کرتے ہیں اور ان کے مسائل ان سے دریافت کرکے مہاڈا وبی ایم سی کے متعلقہ افسران کو فوری طور پر انہیں حل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ اس میٹنگ میں شرکاءکو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے مسائل تحریری طور پر بتائیں تاکہ انہیں حل کرنے میں آسانی ہو۔ اس موقع پر38 درخواستیں موصول ہوئی جبکہ گزشتہ سال موصول ہوئی درخواستوں سے متعلق پیش رفت رپورٹ سے شرکاءکو آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ سال جو درخواستیں موصول ہوئی تھیں، ان میں95فیصد کام مکمل ہوچکا ہے ،بقیہ کام مکمل ہوا چاہتا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنے حلقہ اسمبلی میں واقع تمام اداروں کے مسائل سے واقفیت حاصل کروں اور انہیں فوقیت کی بنیاد پر حل کروں۔ ہرسال منعقد ہونے والی یہ مشاورتی میٹنگ اور میں ذمہ داران کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کے لئے یہ ایک بہترین موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے مسائل حل کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جن اداروں کے ذمہ داران نے ہمیں اپنی درخواستیں دی تھیں، ان میں سے بیشتر کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ میرے حلقہ اسمبلی میں 150سے زائد ادارے ہیں، جن میں مساجد، مدارس، اسکول، ودیگر مذہبی عبادت گاہیں ہیں۔ ان کے مسائل بھی مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں، جنہیں میں فوقیت کی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ نسیم خان نے کہا کہ یہ میٹنگ اداروں کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لئے ہوتی ہے، لیکن اس کے ذریعے حلقہ میں واقع اداروں کی ایک مجموعی صورت حال سامنے آجاتی ہے۔ اداروں کے مسائل جس نوعیت کے ہوتے ہیں، وہ اسی طریقے سے حل کئے جاتے ہیں۔
نسیم خان نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ لوگوں کی ایک عام سوچ ہوتی ہے کہ کوئی سیاسی رہنما اگر کچھ کہتا ہے تو وہ اسے نہیں کرتا۔ شاید یہی وجہ ہے لوگوں کا اعتماد سیاسی رہنماؤں کے اوپر سے اٹھتا جارہا ہے۔ لیکن میرے متعلق میرا پورا حلقہ اسمبلی اس بات کا گواہ ہے کہ میں نے لوگوں کے مسائل فوقیت کی بنیاد پر حل کیا ہے، چاہے اسے حل کرانے میں مجھے کسی بھی حد تک جانا پڑے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ میں لوگوں کے کام دل سے کرنے کی کوشش کرتا ہوں اس لئے عوام بھی مجھے دل سے دعا دیتی ہے۔ یہ انہیں دعاؤں کا اثر ہے کہ چاہے وہ 2014 کا الیکشن ہو یا پھر2019 کا، مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔ واضح رہے کہ عارف نسیم خان ریاست کے وہ واحد مسلم ممبراسمبلی ہیں جو دینی جذبے کے تحت ہر سال اپنے حلقہ اسمبلی کی مساجد، مدارس، اردواسکولوں نیز قبرستانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ان کے منتظمین کی ایک میٹنگ منعقد کرتے ہیں جس میں تمام مکتبہ فکر کے علماءکرام، مساجد کے ائمہ کرام، اردو اسکول کے پرنسپل حضرات اور ادروں کے منتظمین شامل ہوتے ہیں اور جس میں فوری طور پر ان مسائل کو حل کیا جاتا ہے ۔ ان کے اس جذبے کی میٹنگ میں موجود شرکاءنے بھرپور ستائش کی ۔ اسی طرح کی مشاورتی میٹنگ میں گزشتہ سال تقریباً38اداروں نے اپنے مسائل کے حل کے تعلق سے درخواستیں دی تھیں جن میں سے35 سے زائد کے مسائل حل کئے جاچکے ہیں۔