نئی دہلی: اتراکھنڈ کے منگلور اسمبلی حلقہ میں ضمنی انتخاب کے دوران بعض شر پسندوں نے ایک گاوں میں ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ بوتھ پر جانے والے مسلم رائے دہندوں پر لاٹھیوں سے حملہ کرتے ہوئے زخمی کردیا۔ اس دوران فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا۔اس حملہ میں کئی بزرگ افراد زخمی ہوگئے۔ حملے کے ویڈیوز بھی ایکس پر منظر عام پر آئے ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ووٹنگ سے قبل مسلمانوں پر مبینہ طور پر لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا۔
जहां जहां विधानसभा चुनाव हो रहा है वहां वहां मुसलमानों को चाहिए था कि आज नल्ला, निहारी, पाया, कबाब, बिरयानी आदि बनाते और घर पर रह कर बरसात का आनंद लेते, लेकिन नहीं, कांग्रेस+ को वोट देने के लिए मार खा रहे हैं और बेइज्जत हो रहे हैं!pic.twitter.com/Ilp1DNkDNW
— Ali Sohrab (@007AliSohrab) July 10, 2024
بتایا گیا ہے کہ منگلور اسمبلی حلقہ کے لبرہیڈی گاوں میں ووٹنگ سے قبل معمر افراد پر لاٹھیوں سے حملہ کر کے زخمی کر دیا گیا۔ پولیس نے تھوڑی دیر بعد حالات کو قابو میں لا لیا۔ اور مقامی مسلمانوں کو تیقن دیا کہ وہ حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
चेहरा कपड़ों से छिपाया हुआ है, और लोगों को पीटा जा रहा है। विडियो उत्तराखंड के मंगलौर का है। जहां 10 जून को हुए उपचुनाव के दौरान हिंसक झड़प की घटनाएं सामने आईं थीं। @UttrakhandPoli2 @haridwarpolice मुंह पर कपड़ा बांधकर लोगों को पीटने वाले ये लोग कौन हैं? pic.twitter.com/nDjUP3dMl0
— Wasim Akram Tyagi (@WasimAkramTyagi) July 11, 2024
کانگریس امیدوار قاضی نظام الدین نے الزام لگایا کہ شرپسند کھلے عام فائرنگ کر رہے ہیں جو جمہوریت کا قتل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ زخمیوں کی مدد کے لیے کوئی ایمبولینس نہیں تھے۔انہوں نے اپنی گاڑی میں زخمیوں کو ہاسپٹل منتقل کردیا۔منگلور ضمنی انتخاب گزشتہ سال اکتوبر میں بی ایس پی کے ایم ایل اے ثروت کریم انصاری کی موت کی وجہ سے ناگزیر ہو گئے تھے۔