عوام کے اعتماد کا قتل کرنے والوں کو سبق سکھانے کی مقصد سے آنے والوں کا ہم استقبال کریں گے
سابق ایم ایل اے سدھاکر بھالے راؤ این سی پی- ایس پی میں شامل
ممبئی: لاتور ضلع کے اُدگیر ودھان سبھا حلقہ کے سابق ایم ایل اے سدھاکر بھالے راؤ نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ این سی پی-ایس پی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر پارٹی کے سربراہ شرد پوار، قومی کارگزار صدر سپریا سولے، ریاستی صدر جینت پاٹل اور ایم ایل اے راجیش ٹوپے سمیت کئی اہم لیڈران موجود تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ آئیے کسانوں، مزدوروں، تاجروں کو ساتھ لے ملک کو مضبوط کریں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں مہاوکاس اگھاڑی ریاست میں 225 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔شرد پوار نے کہا کہ انتخابات کے بعد ریاست میں اپنی پارٹی کافی مضبوطی سے کام کر رہی ہے۔ سبھی کو لگتا ہے کہ اگر مہاراشٹر کی صورت حال تبدیل کرنی ہے تو این سی پی-ایس پی کو مضبوط کیا جانا چاہئے۔ آج پارٹی میں شمولیت کی خصوصیت ہے۔ ایک ادوگیر کی ہے اور دوسری دیولالی کی ہے۔ عوام نے ان دونوں جگہوں پر این سی پی کے امیدوار کو منتخب کیا لیکن دونوں جیتنے والے امیدواروں نے عوام کے بھروسے کا قتل کیا۔ عوام کو کچھ چیزیں پسند نہیں آتی ہیں۔ لوگ اس بات کو قطعی پسند نہیں کرتے کہ آپ منتخب ہونے کے لیے ایک نام سے ووٹ مانگیں اور جب جیت جائیں تو دوسری جانب چلے جائیں۔ عوام کے اعتماد کو قتل کرنے والوں کو سبق سکھانے کی مقصد سے جو لوگ بھی ہمارے ساتھ آنا چاہیں، ہم ان سب کا استقبال کریں گے۔
شرد پوار نے مزید کہا کہ ریاست میں لوک سبھا کی 48 سیٹیں ہیں۔ پانچ سال قبل اپوزیشن کے صرف 6 لوگ منتخب ہوئے تھے۔ لوگوں نے مودی حکومت کو دیکھا اور اسے بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس بار 31 لوگوں کو منتخب کیا ہے۔ ان 31 میں سے این سی پی کی 10 میں سے 8 سیٹیں منتخب ہوئی ہیں۔ شرد پوار نے یقین ظاہر کیا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں مہاوکاس اگھاڑی کی 288 میں سے 225 سیٹیں جیتیں گی۔
اس موقع پر ریاستی صدر جینت پاٹل نے کہا کہ اگست کے مہینے میں لاتور میں ایک بڑا پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ اجیت پوار کے ساتھ گئے کچھ ناسک و دیولالی کے کچھ کارکنان آج واپس آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کافی عرصے سے سدھاکر بھالے راؤ پر توجہ دے رہے ہیں، ہمارے ساتھی اس حلقے میں سرگرم تھے۔ ہم ایک مضبوط سوچ والے آدمی کو اپنے ساتھ لیے ہیں۔ انہوں نے ماتنگ سماج کی قیادت کی ہے۔ وہ 10 سال تک رکن اسمبلی رہے۔ جینت پاٹل نے کہا کہ ہم نے اقلیتوں کو اپنے ساتھ لیا ہے۔