مجھ کو میرے بعد زمانہ ڈھونڈے گا 

0 26

ڈاکٹر زبیر احمد قمر کامیاب شاعر ، ادب کے ماہر اور رحم دل اُستاد 

تاریخ پیدائش : 2 جون 1976 ، وفات : 6 اگست 2018ئ
مضمون نگار : محمد الطاف، دیگلور۔.: 9421767554
پروفیسر و ڈاکٹر شیخ زبیر احمد قمر ، اُردو شاعری و اُردو ادب کے حوالے سے جو نام کمایا اور اُردو دنیا میں علاقے مراہٹواڑہ کا نام روشن کیا ، قلیل مدت میں اپنے آپ میں ایک فقید المثال کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔
دیگلور کالج دیگلور میں شعبہ ¿ اُردو کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ اور اسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر زبیر احمد قمر کی اُردو کے تئیں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُردو طلباءکو دشواری نہ ہو اس بات کے پیش ِ نظر کالج کی لائبریری میں سینکڑوں کی تعداد میں اُردو ادب ،تاریخ ، فلسفہ وسائنس کے مضامین پر کتب مہیا کروائیں ۔ ڈاکٹر شیخ زبیر احمد قمر کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ تھا ۔
اُردو کے تئیں اُن کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ اساتذہ کے بیشتر کلام اُن کی نوکِ زباں پر تھے ۔ اُس کے علاوہ بھی ہندو پاک کے مشہور شعراءکے اشعار بھی اُنھیں یاد تھے۔ ڈاکٹر زبیر احمد قمر کی پیدائش قندھار شریف ، ضلع ناندیڑ میں ۲ جون ۸۶۹۱ئ کو ہوئی۔ قندھار شریف بزرگان ِ دین کی سرزمین کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔جہاں پر حاجی سیاح سرور مخدوم ؒ سانگڑے سلطان مشکل آسان ؒ کے علاوہ سینکڑوں بزرگان ِ دین آرام فرما ہےں۔ بانی جامعہ نظام شیخ الاسلام عاشق ِ رسول ﷺ مولانا انوار اللہ خان فاروقی رحمتہ اللہ علیہ کا وطن بھی قندھار شریف ہی ہے۔
ڈاکٹر شیخ زبیر احمد قمر کی ننھیال قندھار شریف ہونے کی وجہ سے بچپن ہی سے اُن کا آنا جانا قندھار شریف ہوتا تھا۔ شائد اُسی کا نتیجہ تھا کہ آپ بزرگان ِ دین کی مزارات پر زیارت کیلئے جاتے اور بزرگان ِ دین سے حد درجہ محبت رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ نے دو بزرگوں سے بیعت لی ہوئی تھی اور ایک بزرگ سے آپ کو خلافت بھی ملی تھی۔
عمر کے آخری ایام میں ڈاکٹر زبیر احمد قمر مرحوم کا وقت زیادہ تر اہل سلسلہ بزرگوں کی معیت میں گزرتا رہا۔ بزرگانِ دین کی صحبت کا اثر ہی تھا جس کی وجہ سے اُن کے قلم سے عشقِ نبی ﷺ میں ڈوبے ہوئے کئی کلام منظر عام پر آئے ۔ اُن کی لکھی ہوئی نعت کا ایک مشہور شعر
وہ عرش کا چراغ ہے میں اُن کے قدموں کی دھول ہوں
اے زندگی گواہ رہنا میں عاشق ِ رسول ہوں
الغرض ڈاکٹر زبیر احمد قمر کے والد دیگلور سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع ایکلارے کے رہنے والے تھے جو چھوٹا سا دیہات ہے۔ دیگلور کالج میں ملازمت کے سلسلے میں دیگلور میں بودوپاش اختیار کر لی تھی۔ ڈاکٹر زبیر احمد قمر کی تعلیم اول تا دہم دیگلور کے سرکاری اسکولوں میں ہوئی ۔ میٹرک کے بعد ڈپلوما اِن سول انجینئرنگ کےلئے کشنور کرناٹک کے کالج میں داخلہ لیا اور وہیں سے اُن کا بیدر آنا جانا شروع ہوا۔ جہاں پر اُن کی ملاقات بیدر کے معروف شاعر و ادیب نثار احمد کلیم سے ہوئی۔ نثار احمد کلیم ہندی پنڈت تھے لیکن اُردو ادب و شاعری میں بھی اُن کو مکمل دسترس حاصل تھی۔ جن کی اُردو ادب و شاعری پر تقریباً ایک درجن کے قریب کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں۔ نثار احمد کلیم مرحوم سے مسلسل ملاقاتوں نے ڈاکٹر زبیر احمد قمر میں شاعری کا ذوق پیدا ہوا۔ نظام آباد کے معروف ادبی رسالے گونج کے ایڈیٹر جمیل نظام آبادی سے اصلاح لینے لگے اور ساتھ ہی علم عروض میں اُن کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ اُس کے ساتھ ساتھ علمی سفر بھی جاری رہا۔ ابتداءمیں ناندیڑ کے مشہور شاعر محمود عشقی کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے رہے۔ اسٹینو گرافر کا ڈپلوما کرنے کے بعد دیگلور کالج دیگلور میں بحیثیت اسٹینو گرافر تقرر ہوا۔ ملازمت کرتے کرتے اُردو سے بی اے پھر ایم اے کیا۔ ایم ا ے اُردو کامیابی کے بعد اسٹینو گرافر سے بحیثیت اُردو لیکچرار دیگلور کالج دیگلور میں عارضی تقرر ہوا۔ پھر آپ نے ”مراٹھواڑہ میں اُردو افسانہ نگاری“ پر پی ایچ ڈی کی تیاری شروع کی۔ ابتداءمیں پروفیسر عبدالمجید خان یوسف زئی کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی تھیسس پر کام کرتے رہے۔ پروفیسر عبدالمجید خان یوسف زئی کے انتقال کے بعد ڈاکٹر رشید صدیقی ،ایچ او ڈی شیواجی کالج پربھنی کے زیر نگرانی اپنا مقالہ ”مراٹھواڑہ میں اُردو افسانہ نگاری“ مکمل کیا۔ جس پر اُنھیں سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی سے ڈگری ایوارڈ ہوئی اور اُردو لیکچرار کی حیثیت سے مستقل طور پر تقرر ہوا۔ اور صحیح معنوںمیں یہیں سے ڈاکٹر زبیر احمد قمر کو اُردو شعر و شاعری اور مقالہ نگاری میں کمال حاصل ہوا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر زبیر احمد قمر نے اُردو ادب میں جو کمال حاصل کیا وہ اُن کی اپنی ذاتی صلاحیتوں اور دلچسپی کے باعث ہوا ۔ ورنہ جہاں تک میرے علم میں ہے اُن کے ددھیال یا ننھیال میں دور دور تک کوئی شاعر و ادیب نہیں گزرا۔ ہاں دیگلور کی سرزمین ادبی لحاظ سے کافی زرخیز تھی جہاں پر جوش محمد آبادی، قاضی حامد علی تنویر اور دیگر باکمال شعراءموجود تھے۔
ڈاکٹر زبیر احمد قمر حد سے زیادہ منکسر المزاج شخصیت کے مالک تھے۔ پوری زندگی میں کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کیا۔ کبھی دوستوں سے کسی بات پر یا پھر کسی عنوان پر بحث چھڑ جاتی ہے اور اگر وہ حق پر ہوتے تب بھی اصرار نہیں کرتے کہ مجھے مان لو یا پھر میں حق پہ ہوں۔ دیگلور کالج دیگلور میں جہاں آپ اسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز تھے ۔ مسلم طلبہ کے لئے اور اُن کے سرپرستوں کےلئے بڑا سہارا تھے۔ طلبہ کی رہنمائی کرتے سرکاری اسکیمات کے تعلق سے آگاہ کرتے۔ مسلم طلبہ کو جہاں کہیں مدد کی ضرورت ہوتی خاموشی سے کرتے تھے۔ اکثر نعتیہ و ادبی مشاعروں میں شرکت کےلئے اور ادبی کانفرنسوں میں مقالے پڑھنے کےلئے ریاست و بیرون ریاست دورے کرتے آپ کا حلقہ احباب کافی وسیع تھا۔
آپ کے دو ادبی شاہکار بالکل تیار ہیں اور طباعت کے منتظر ہیں۔ اور اُمید یہی ہے کہ ڈاکٹر زبیر احمد قمر عوام و خواص میں جس طرح ہر دل عزیز تھے اُن کے دو ادبی شہہ پارے ”عکس قمر“ اور ”ضیائے قمر“ بھی لوگوں کا دِل جیت لیں گے اور عام و خاص سے داد بھی۔
’عکس قمر‘ اور ’ضیائے قمر‘ دونوں منظوم تنصیف ہیں جن میں قارئین کو حمد، نعت، منقبت ، غزل، رباعی کے علاوہ دیگر منظوم اصناف سخن ملیں گی۔ اُنھوں نے شاعری کی تمام اصنافِ سخن پر طبع آزمائی کی۔ جس سے اُن کے کہنہ مشق شاعر ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

نمونہ کلام

نئے ڈاکٹر ہیں قمر دیگلوری
عروضی مگر ہیں قمر دیگلوری
کسی دم میں منزل یقینا ملے گی
شریک سفر ہیں قمر دیگلوری
ادب اُن کا لازم ہے ہر ایک انجمن میں
کہ ایک باہنر ہیں قمر دیگلوری
کوئی اُن کے سائے میں کچھ دیر بیٹھے
مہکتا شجر ہیں قمر دیگلوری
ملاقات کیجئے سویر سویرے
سوائے سحر ہیں قمر دیگلوری
ترنم کا انداز بھی ہے نرالا
بشکل جگر ہیں قمر دیگلوری
اسی راستے سے ہر ایک کو ہے جانا
فعولن کا دَر ہے قمر دیگلوری
ہیں چاروں طرف اُن کے لاکھوں ستارے
مثال قمر ہے قمر دیگلوری
یہ ایک روز اے قیس دُنیا کہے گی
بہت نامور ہیں قمر دیگلوری
دُنیا میں بہت خوب نکھر جاﺅ گے تم بھی
جب وقت مصیبت سے گزر جاﺅ گے تم بھی
سائے میں دعاﺅں کے چلو جھوم کے اکثر
دُنیا میں یقینا ہی اُبھر جاﺅ گے تم بھی
کیا خواب حقیقت ذرا سوچ کے دیکھو
جب وقت پڑے گا تو مکر جاﺅ گے تم بھی
اگر حسن کی پرچھائی میرے دِل پہ پڑے گی
کرنوں کی طرح دِل میں اُتر جاﺅ گے تم بھی
اُنگلی کے ہر ایک پور پہ تحریر ہے روشن
سائے میں میرے آﺅ سدھر جاﺅ گے تم بھی
دیدار کی حسرت کو دبا کر نہ رکھو آج
دیکھو بھی ذرا مجھ کو سنور جاﺅگے تم بھی
سائے کی طرح ساتھ رہوں گا میں تمہارے
اس پار سے بس پار اگر جاﺅگے تم بھی
مانند قمر چرخ کے تاروں میں رہیں گے
محبت میں میرے آﺅ سدھر جاﺅ گے تم بھی
عمر کے آخری ایام میں اہل سلسلہ بزرگوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کا سلسلہ زیادہ بڑھ گیا تھا۔ حالانکہ کے اکیاون سال عمر زیادہ نہیں ہوتی، لیکن قدرت کے آگے کائنات کی ہر شئے مجبور و لاچار ہے۔ ڈاکٹر زبیر احمد قمر آج ہمارے درمیان نہیں ہے لیکن اُن کی قلمی نگارشات ہمیشہ موجود رہیں گی۔ آخر میں میں بس یہی کہوں گا حق مغفرت کرے بڑا صالح مرد تھا۔