مغربی بنگال : ٹی ایم سی کے 100 سے زیادہ ممبر اسمبلی بی جے پی کے رابطے میں ہونے کادعویٰ

نئی دہلی،30مئی(پی ایس آئی)مغربی بنگال کے بی جے پی لیڈر مکل رائے نے اے ڈی ٹی وی سے بات چیت میں کہا کہ ٹی ایم سی کے 100 سے زیادہ ممبر اسمبلی ان کے رابطے میں ہیں. وہ اگلے چند دنوں میں بی جے پی میں شامل ہوں گے. وہیں کیلاش وجیورگیی نے بات چیت میں کہا کہ ابھی بہت کچھ ہونا ہے، میں آپ کو ابھی سے کچھ نہیں بتا سکتا. انتظار کیجیے آپ کے سامنے سب کچھ صاف صاف آ جائے گابتا دیں کہ گزشتہ دو دنوں میں ٹی ایم سی کے 3 ممبر اسمبلی بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں. غور طلب ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں حکمران ترنمول کانگریس کا مظاہرہ بہت مایوس کن رہا ہے جہاں اس کے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد سال 2104 کے 34 کے مقابلے اس بار گھٹ کر 22 رہ گئی ہے. پارٹی کے اس خراب مظاہرہ کا اب تجزیہ شروع ہو گیا ہے. ترنمول کانگریس کو ساکت کرنے والے مظاہرہ کے پیچھے مودی لہر اور گزشتہ سال خون خرابے کے ساتھ ہوئے پنچایت انتخابات کے بعد ٹی ایم سی کی طرف سے اقلیتوں کا مبینہ طور پر منہ بھرائی ووٹروں کے پولرائزیشن کی وجہ مانا جا رہا ہے. بھگوا پارٹی کا مینڈیٹ اچانک بڑھنے سے حیران ترنمول کانگریس خیمہ میںبٹ گئی ہے. مقامی لیڈروں نے اعلیٰ پارٹی عہدوں پر قابض لوگوں کی ” دوراندیشی کی کمی ” اور ان کے ” انا بھرے رویہ ” کو خراب انتخابی مظاہرہ کے پیچھے کی اہم وجہ بتایا.اگرچہ ٹییمسی کا ووٹ فیصد اس بار بڑھا ہے. اس 2014 کے 39 فیصد کے مقابلے اس بار 43 فیصد ووٹ ملے ہیں لیکن وہ جنوبی بنگال کے قبائلی اکثریتی جنگل محل اور شمال میں چائے باگان والے علاقوں میں اپنا گڑھ بچائے رکھنے میں ناکام رہی. بی جے پی نے ریاست کی 42 لوک سبھا سیٹوں میں سے 18 پر جیت درج کی اور اس کا ووٹ فیصد 2014 کے 17 فیصد کے مقابلے اس بار 40.5 فیصد تک بڑھ گیا. یہاں تک کہ جن سیٹوں پر ٹی ایم سی جیتی وہاں بھی بی جے پی دوسرے نمبر پر رہی جبکہ بائیں پارٹی کے حصے تیسرا مقام آیا

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading