کلکتہ، 21مئی .شمالی 24پرگنہ کے بھاٹ پاڑہ اسمبلی حلقے میں 19جنوری کو ضمنی انتخاب کے بعد سے ہی کانکی ناڑہ میں فرقہ وارانہ تناؤ کا ماحول ہے۔خوف کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ گھر چھوڑ کر کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ترنمول کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپ کا نشانہ مقامی مسلمان ہورہے ہیں، شمال مشرقی ریلوے کے مطابق سیالدہ ڈویژن احتجاج کی وجہ سے متاثر ہواہے۔
ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوجانے اور ارجن سنگھ کے استعفیٰ کی وجہ سے پھاٹ پاڑہ اسمبلی حلقے میں ضمنی انتخاب ہوئے تھے۔علاقے میں دفعہ 44نافذ ہونے کے باوجود مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔کانکی ناڑہ ریلوے اسٹیشن کے باہر بھی کروڈ بم برآمد ہوئے ہیں۔پولس آفیسر نے کہا کہ اب تک اس معاملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔بھاٹ پاڑہ اسمبلی حلقے سے کانگریس کے امیدوار خواجہ احمد حسین نے یواین آئی کوبتایا کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپ میں مسلم گھروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایاجارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ارجن سنگھ جن کے بیٹے پون سنگھ بی جے پی امیدوار ہیں اور ترنمول کانگریس امیدوار مدن مترا کے حامیوں کے درمیا ن جھڑپ ہورہی ہے مگر پولس و مقامی انتظامیہ لوگوں کی جان و مال کو بچانے میں ناکام ہیں، انہوں نے کہاکہ جن گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے بیشتر افراد جوٹ مل میں کام کرنے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ رہا ہے۔مختلف ریاستوں سے آکر آباد ہونے والے اس علاقے میں زیادہ تر لوگ جوٹ ملوں میں کام کرتے ہیں۔مگر بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں فرقہ واریت کیلئے ذمہ دار ہے۔