تانا جی ساونت نے وزیر اعلیٰ شندے کی سوچ کو ظاہر کیا ہے: مہیش تپاسے
ممبئی: شندے حکومت کے وزیر تانا جی ساونت نے کہا ہے کہ کابینہ میں اجیت پوار کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے بیٹھنا پڑتا ہے اور باہر نکلنے کے بعد سب کچھ الٹا ہو جاتا ہے۔ ساونت کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے این سی پی- ایس پی کے ترجمان مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ اجیت پوار جیسا لیڈر اس طرح کی بے عزتی کیسے برداشت کر سکتا ہے، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ کسی نے یہ اس بات کا تصور تک نہیں کیا تھا کہ اجیت دادا کی اقتدار کی لالچ اس حد تک پہنچ جائے گی۔ ان کی خودداری کہاں مفقود ہو گئی؟ یہ اجیت دادا پوار کی پارٹی کے لیڈروں کو تلاش کرنا چاہئے۔
مہیش تپاسے نے مزید کہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست کے لیے اجیت پوار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ آر ایس ایس اور بی جے پی نے اجیت پوار کو اس شکست کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شندے سینا کے عہدیداروں کی اجیت دادا کے بارے میں ناپسندیدگی اور انہیں حکومت میں شامل کرنے پر نارضگی بھی اب سامنے آ رہی ہے۔ تپاسے نے کہا کہ اجیت پوار نے شرد پوار کی پارٹی چھوڑ کر حکومت کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کی تائید پر فُل پٹیل، چھگن بھجبل، سنیل تٹکرے اور دیگر لیڈروں نے کی تھی۔ اب وزیر تانا جی ساونت کے اجیت پوار پر تنقید کے بعد اجیت دادا کی پارٹی کے تمام لیڈران خاموش کیوں ہیں؟
این سی پی-ایس پی کے ترجمان مہیش تپاسے نے کہا کہ شرد پوار کے دور میں اجیت دادا کے ساتھ بیٹھنا کارکنوں کے لیے بڑے فخر کی بات تھی۔ لیکن اب شندے حکومت کے وزرا کے ساتھ اجیت دادا کے بیٹھنے پر ناپسندیدگی سامنے آتی ہے، یہ رویہ وزیر اعلیٰ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔