وزیراعظم نے چھترپتی شیواجی کے مجسمے کے معاملے پر معافی مانگ کر غلطی تسلیم کی : ویڈیو دیکھیں

  • مہاراشٹر کی عزت پر حملہ کرنے والے شندے اور فڑنویس کو حکومت کرنے کا قطعی حق نہیں ہے
  • ریاست کی عوام مہایوتی کو کبھی معاف نہیں کرے گی

ممبئی: چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ گرنے کے معاملے نے نہ صرف مہایوتی کی بدعنوانی کو اجاگر کر دیا ہے بلکہ مہاراشٹر کے سر کو شرم سے جھکا دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس مجسمے کا افتتاح کیا تھا لیکن صرف ۸ ماہ میں وہ مجسمہ گر گیا۔

یہ صرف مجسمہ گرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اس واقعے نے مہاراشٹر کی عزت کو خاک میں ملا دیا ہے۔ عوام کی شدید جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے نریندر مودی نے علانیہ معافی مانگی ہے، جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے غلطی تسلیم کی ہے، لیکن مہاراشٹر کی شیواجی کو پسند کرنے والی عوام انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے وزیراعظم مودی کے ہاتھوں مجسمے کا افتتاح کرنے کے لیے جلد بازی میں شیواجی مہاراج کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ دراصل عظیم شخصیات کا مجسمہ بناتے وقت تمام پہلوؤں پر غور کیا جانا ضروری ہوتا ہے، لیکن بی جے پی حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی۔ تجربے سے عاری شخص کو مجسمے کا کام سونپ دیا گیا اور ثقافتی محکمہ کی دی گئی ہدایات کو نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں کم معیار کا کام ہوا اور مجسمہ گر گیا۔

نانا پٹولے نے کہا کہ شیواجی مہاراج ہمارے دیوتا ہیں، مہاراشٹر کی عزت ہیں۔ مہاراشٹر کی عزت کو نقصان پہنچانے والے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور حکومت سے استعفیٰ دینا چاہیے، ورنہ عوام انہیں خود حکومت سے بے دخل کردے گی۔

شیواجی مہاراج کے مجسمے کے معاملے پر سیاست کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے شندے اور فڑنویس کی طرف سے کی گئی اپیل کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلسل شیواجی مہاراج کی توہین کی ہے۔ صرف ووٹوں کے لیے مہاراج کے نام کا استعمال کیا ہے۔ اقتدار کے لیے بے بس بی جے پی کسی بھی معاملے میں سیاست کرتی ہے۔ مودی-شندے حکومت کے خاتمے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، یہ ملک نے دیکھا ہے، اس لیے دوسروں کو مشورے دینے سے پہلے انہیں خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading