عوام کی حمایت سے پارٹی کو ایک بار پھر کھڑی کریں گے: شردپوار
میں شکرگزار ہوں کہ وزیراعظم کے تمام الزامات سے پارٹی وپارٹی کے لوگ بری ہوگئے
پونے:1980 میں جس طرح پارٹی کو ازسرنوکھڑا کیا گیا تھا اسی طرح ایک بار پھر عوام کے تعاون سے پارٹی کو کھڑاکرنے کا ہمارا یک نکاتی پروگرام ہوگا۔مجھے مہاراشٹر کی عوام خاص طور سے نوجوانوں پر بے انتہابھروسہ ہے۔اس یقین کا اظہار این سی پی کے قومی صدر شردپوار نے پریس کانفرنس میں کیا ہے۔این سی پی کے کچھ ایم ایل ایز کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے وزارت حاصل کرنے پر وہ میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔
شردپوار نے کہا کہ پارٹی کے مستقبل کے بارے میں آج کے حالات دوسروں کے لیے نئے ہوں گے لیکن میرے لیے یہ نئی بات نہیں ہے۔1980میں انتخابات کے بعد میں جس پارٹی کی قیادت کررہا تھا اس پارٹی کے 58ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ ایک مہینے کے بعد ان 58میں سے ۵ کو چھوڑ کرتمام لوگ مجھے اور پارٹی کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ میں ان ۵ لوگوں کو لے کر دوبارہ پارٹی کو کھڑی کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ اس کوشش کے بعد پانچ سال بعد ہونے والے الیکشن میں ہماری پارٹی کے منتخب ممبران کی تعداد 69 سے زائد ہوگئی۔جبکہ جو لوگ پارٹی کو چھوڑ کر گئے تھے، ان میں سے چار کو چھوڑ کر تمام لوگ بری طرح شکست سے دوچار ہوئے۔
شردپوار نے کہا کہ پی ایم مودی نے این سی پی کے خلاف ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے دوباتیں کہی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ این سی پی بدعنوانی میں ملوث ہے جس کے لیے انہوں نے کوآپریٹیوبینکوں اور آبی وسائل کی محکمہ کا تذکرہ کیا۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ آج این سی پی کے کچھ لوگوں نے انہوں نے وزارت میں شامل کیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ این سی پی پربدعنوانی کا جو الزام عائد کیا گیا تھا اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ شردپوار نے کہاکہ ہمارے لوگوں نے پارٹی سے علاحدہ موقف اختیار کیا۔ ۶ جولائی کو میں نے پارٹی کے اہم لوگوں کی میٹنگ بلائی تھی جس میں پارٹی کے انتظامی امور میں تبدیلی جیسے موضوعات پرغو روفکر کیا جانا تھا۔ پارٹی سے الگ موقف اختیار کرتے ہوئے کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ وہی پارٹی ہیں۔ جبکہ ان لوگوں کے موقف واضح طور پر سامنے آنے میں مزید چند دن لگیں گے کیونکہ جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان میں بہت سے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت حال سے لاعلم تھے اور یہ کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔اس معاملے پر میں ابھی کچھ نہیں بولنا چاہتا ہوں۔
شردپوار نے کہا کہ گزشتہ الیکشن کے وقت بھی ایسی ہی تصویر تھی لیکن میں نے پورے مہاراشٹر میں جاکر اپنا موقف لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا اور ہمیں کامیابی ملی۔ اب دوبارہ وہی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ آج مجھے پورے ملک کے کونے کونے سے فون آرہے ہیں۔ لوگ اس حالت میں ہمارے ساتھ ہونے کا کہہ رہے ہیں۔ پوار نے کہا کہ اس ملک میں ایک متبادل طاقت کھڑا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس لیے جو واقعات پیش آئے ہیں، اس کی مجھے ذرا بھی پرواہ نہیں ہے کیونکہ عوام اور نوجوانوں پر مجھے بے انتہا بھروسہ ہے۔