16 جنوری کو ممبئی میں این سی پی کی اصل طاقت سامنے آئے گی، الیکشن افسران کا رویہ جانبدارانہ، الیکشن کمیشن سے شکایت کا اعلان
ممبئی: این سی پی کے سینئر لیڈر، سابق وزیر اور ممبئی ڈویژنل الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کے صدر نواب ملک نے پرزور دعویٰ کیا ہے کہ آنے والے ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے بعد ممبئی کا میئر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا ہی ہوگا۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب جھارکھنڈ میں ایک سیٹ ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے تو ممبئی میں 30 نشستوں پر بھی این سی پی کا میئر بننا بالکل ممکن ہے۔
ساڑھے تین برس بعد نواب ملک کی پہلی پریس کانفرنس ہونے کے باعث سیاسی حلقوں اور میڈیا میں خاصی بے چینی اور تجسس پایا جا رہا تھا کہ وہ کیا انکشافات کریں گے۔ توقع کے مطابق نواب ملک نے میئر کے حوالے سے بڑا سیاسی بیان دے کر ممبئی کی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ این سی پی کی ضرورت ہو یا نہ ہو، ممبئی میں پارٹی کی اصل طاقت کا اندازہ 16 جنوری کو ہو جائے گا۔ ان کے مطابق نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے ممبئی میں 94 نشستوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جبکہ 95ویں نشست پر داخل کیا گیا نامزدگی فارم معمولی تکنیکی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ دھاراوی اور رمابائی امبیڈکر نگر کامراج نگر میں پارٹی نے حمایتی امیدوار کھڑے کیے ہیں۔
نواب ملک نے کہا کہ جہاں جہاں این سی پی مضبوطی سے انتخاب لڑ سکتی تھی وہاں امیدوار دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کے امیدواروں میں خواتین کی تعداد نمایاں ہے اور فہرست میں ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، سبزی فروش، صفائی کارکن سمیت سماج کے ہر طبقے کو نمائندگی دی گئی ہے۔ مراٹھی بولنے والوں کے ساتھ ساتھ وہ تمام افراد جو ممبئی کو اپنی کرم بھومی مانتے ہیں، انہیں بھی موقع دیا گیا ہے۔ مسلم، عیسائی، شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے، جنوبی ہند کے تیلگو بولنے والے، سبھی طبقات کو منصفانہ نمائندگی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ نواب ملک نے دعویٰ کیا کہ ممبئی میں سب سے زیادہ ٹکٹ شمالی ہندوستانی برادری کو این سی پی نے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2002 سے جب متحدہ این سی پی ممبئی میں انتخاب لڑتی رہی، تب یہ تاثر قائم کیا گیا کہ پارٹی 14 نشستوں سے آگے نہیں جا سکتی، مگر اس بار ممبئی میں بالکل مختلف سیاسی منظرنامہ سامنے آئے گا اور این سی پی کی کامیابیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوگی۔
نواب ملک نے اس موقع پر پارٹی کے قومی صدر اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب کچھ حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھا کہ نواب ملک کے ہوتے ہوئے اتحاد ممکن نہیں، تب اجیت پوار مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑے رہے اور یہ واضح مؤقف اختیار کیا کہ این سی پی کو کسی اتحاد کی ضرورت نہیں اور پارٹی اپنے بل پر انتخاب لڑے گی۔ انہوں نے انتخابی عمل پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نامزدگی کے بعد جس طرح الیکشن افسران کا رویہ سامنے آ رہا ہے، وہ انتہائی جانبدار اور غیر قانونی ہے۔ نااہل امیدواروں کو رات گئے اہل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اہل امیدواروں کے فارم معمولی بنیادوں پر رد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد وارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذات کے سرٹیفکیٹ، غیر قانونی تعمیرات اور میونسپل وینڈر ہونے جیسے واضح اعتراضات کے باوجود بعض امیدواروں کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔
نواب ملک نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے مہاراشٹر کے پسماندہ طبقات، او بی سی اور مقامی عوام کے حقوق پر شدید ضرب پڑے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان تمام معاملات پر ریاستی الیکشن کمیشن کو باضابطہ شکایت درج کرائی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت میں یہ معاملات ثابت ہو گئے تو متعلقہ افسران کی نوکریاں بھی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی ممبئی میں کہیں بی جے پی کے خلاف، کہیں شندے سینا کے خلاف اور کہیں کانگریس کے خلاف مقابلہ کر رہی ہے۔ ہمارا مقصد کسی خاص پارٹی کو ہرانا نہیں بلکہ اپنے امیدواروں کو جتوانا ہے۔ نواب ملک نے یہ بھی واضح کیا کہ جرم کا الزام اور سزا ہونا دو الگ باتیں ہیں، جب تک کسی کو سزا نہ ہو، اسے انتخاب لڑنے سے روکا نہیں جا سکتا۔