مہاراشٹر میں سماجی ہم آہنگی میں آج کل جس طرح بگاڑ آیا ہوا ہے، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔یہ بگاڑ پیدا کرنے میں بہت سی تنظیمیں شب ورز سرگرم ہیں اور یہ صرف اس لیے ہورہا ہے کہ حزبِ اقتدار کے انتخابی موضوعات میں بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں ومزدروں کے مسائل جیسے موضوعات کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ وہ انہیں کوئی موضوع ہی نہیں سمجھتے ہیں۔
۱۱انتخابات میں کامیابی کی لیے ان کے پاس نفرت پھیلانا ہی سب سے اہم موضوع ہے۔ نفرت کی اس سیاست کے لیے چھترپتی شیواجی مہاراج، شاہو مہاراج، مہاتما جیوتی راؤ پھلے، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی روایات کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔لیکن اسی کے ساتھ یہ کہنے میں بھی ہمیں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے کہ ملک کے موجودہ کشیدہ حالات سے بے خبر کچھ نادان لوگ اپنی کچھ جذباتی باتوں سے ان فرقہ پرست عناصر کو موقع فراہم کررہے ہیں کہ وہ سماج میں فرقہ پرستی کا زہرگھولیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اورنگ زیب کی تصویر کا اسٹیٹس لگانے کی کیا ضرورت تھی؟
اورنگ زیب کے دور حکومت میں صوبیداروں کی اکثریت راجپوتوں اور برہمنوں کی تھی۔ یہی نہیں بلکہ ان کے مشیر بھی وہی لوگ تھے اور جو مسلمان ان میں شامل تھے وہ ان کے ساتھ آئے ہوئے پٹھان و حبشی تھے۔ انہوں نے یہاں کے مسلمانوں کو کبھی کوئی جگہ نہیں دی۔ ہم بھلا ان کی تصویر کیوں دکھائیں؟ جس کولہاپور میں چھترپتی شاہو مہاراج نے دلتوں اور مسلمانوں کو نہ صرف برابری کادرجہ دیا بلکہ باعزت مقام بھی دیا، اس کولہاپور میں اس طرح کے واقعات کا ہونا انتہائی افسوس ناک ہے۔
یہ باتیں عام مسلمانوں کو ذہن نشین رکھنا بہت ضروری ہے کہ مذہب کے نام پر غریب مسلمانوں کو ورغلانے اور غلط راستے کی طرف لے جانے والے ہی اصل میں مسلمانوں کے دشمن ہیں۔مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بہت بڑی تعداد میں ہندو آج بھی ہندومسلم اتحاد کے لیے کوشاں ہیں۔اگر اعلیٰ ذات وطبقے کے کچھ ہندواور سماج کے چند افراد اقتدار کے لیے سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو بھی اس کا اس طرح جواب نہیں دیا جا سکتا۔ اس کاجواب دینے کے لیے مہاتماگاندھی نے ہمیں راستہ دکھایا ہے۔ تشدد کا جواب تشدد سے نہیں بلکہ محبت سے دیاجانا چاہئے۔ جارحیت کا جواب نرمی ہی ہوسکتی ہے۔
ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرناچاہئے کہ مسلم طبقے کے کچھ لوگوں کے غلط بیانات ومتشدد حرکت،ہندوسماج کے ہی نہیں بلکہ ہندودھرم کے بھی خلاف کھڑے ہونے جیسا ہے،جسے ہندوسماج کی وہ اکثریت جو مسلم سماج کے ساتھ ہے، وہ اسے اپنی تضحیک سمجھے گی۔ ہمیں اس سادہ سی حقیقت کا بھی ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کی کارروائی کرکے ہم ہندو فرقہ پرستوں کے خلاف نہیں بلکہ ہندوؤں کی اکثریت کے خلاف صف بندی کررہے ہیں جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔
آج مہاراشٹر میں ممبئی، اورنگ آباد، اکولہ، بلڈانہ، ترمبکیشور، شیوگاؤں ولاتورجیسے کئی مقامات پر جان بوجھ کر کشیدگی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کچھ جگہوں پر ایسا لگتا ہے کہ مہاراشٹر کی پولیس ایسے سماج و ملک دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔جو مظاہرے ہوتے ہیں ان پر پولیس توجہ نہیں دیتی ہے یا اگردیتی بھی ہے تو ہاتھ جوڑ کر موجود رہتی ہے۔ لیکن ایسے گھٹیا، سماجی ہم آہنگی میں زہرگھولنے والوں، نفرت پھیلانے والوں، نعرے لگانے والوں اوراشتعال انگیز تقریریں کرنے والوں کے خلاف برموقع کوئی کارروائی نہیں کرتی۔مسلم طبقہ کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دہلی سے مہاراشٹر تک میں اقتدار کی نوعیت کیا ہے۔
1947 میں ملک آزاد ہوا اور ساتھ ہی دو حصوں میں تقسیم بھی ہو گیا۔ پاکستان بننے کے باوجود ملک ہندو راشٹر نہیں بلکہ ایک سیکولر راشٹر بنا اور اسی لیے تمام مذاہب، ذات، علاقائیت، زبانوں اور ثقافتوں کے تنوع کے باوجود ایک متحدہ ہندوستان وجود میں آیا۔ ڈاکٹر باباصاحب کی قیادت میں بنایاگیا ہندوستانی آئین میں سبھی مذاہب کے لوگوں کو شامل کیا گیا اورسب کے ساتھ انصاف کو یقینی بنایا گیا۔
1925 میں قائم ہوئی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اس ملک کو’ہندوراشٹر ‘بنانا چاہتی تھی۔ گولوالکر گروجی نے تو ہندوستانی آئین کے بارے میں کہاتھا کہ یہ مختلف ملکوں کے آئین سے دفعات کو اٹھا کر بنایا گیا ایک ’بستر‘ ہے۔ان کے ادھورے خواب کو پورا کرنے کی 2014 سے مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اس ملک کے سرکاری ادارے مکمل طور پر نہ سہی، کافی حد تک ہندوتواوادی بن چکے ہیں۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ مسلم طبقے کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ ملک کی بیوروکریسی وادارے کس قدر ہندوتواوادی بن چکے ہیں اوریہ کہ خود حکومت انہیں ہندوتواوادی بنارہی ہے۔ ماضی میں مسلم لیڈران جو رویہ اپناتے رہے وہ اب نہیں چلنے والا ہے۔ہمیں یہ بھی اندازہ نہیں ہے کہ شاہ بانو جیسے معاملات کو اٹھاکر ہم نے اپنا بہت بڑے پیمانے پر نقصان کیا ہے۔ مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ ملک کے موجودہ حالات ہندومسلم ٹکراؤ کی نہیں بلکہ مسلم بمقابلہ حکومت وانتظامیہ کی ہے۔
چھترپتی شیواجی مہاراج کے مہاراشٹر میں برسراقتدار لوگ مذکورہ بالاپالیسی ہی اپنائے ہوئے نظرآتے ہیں۔ دہلی سے مہاراشٹر تک آج جن کے ہاتھوں میں اقتدار ہے، ان کا بس ایک ہی ایجنڈا ہے اور وہ یہ ہے کہ کس طرح سماج میں دراڑ پیدا کرکے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنائی جائے۔ ایک زمانے میں اقتدار پر قابض رہنے کے لیے جس ہتھیار کا استعمال انگریزوں نے کیا، آج اسی ہتھیار کا استعمال حزبِ اقتدارکررہا ہے اور وہ ہتھیار ہے لوگوں کو بانٹو اور راج کرو۔اس صورت حال میں مسلمانوں کو بڑی ہوشیاری اور تدبرکے ساتھ اپنا راستہ بنانے کی ضرورت ہے۔ آج مسلم سماج تعلیم کے میدان میں دلت وآدیواسیوں سے بھی زیادہ پچھڑا ہوا ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لیے کوئی ہمیں کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنانا چاہئے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارے پڑوس میں کوئی بھی لڑکا/لڑکی تعلیم سے محروم نہ رہے۔ ہم یہ کبھی نہیں سوچتے کہ مسلمانوں کے حقیقی مسائل کیا ہیں۔ جو لوگ مذہب کے نام پر مسلسل مسلمانوں کو اکسانے کی کوشش کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے ”نجات دہندہ“ ہرگزنہیں بلکہ ”دشمن“ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہئ کار دشمنوں کو بھی معاف کردینے کا تھا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کہیں ہم اپنی کسی حرکت سے اپنے ہی دوستوں کو دشمن تونہیں بنارہے ہیں؟
مسلم سماج کو کولہاپور میں توفیق، شولاپور میں حسیب نداف، بلڈھانہ میں مزمل، اکولا میں بدرالزماں، جبار بھائی، سید شہزاد،احمد نگر میں شوکت تمبولی، سمیر قاضی اور ناصر شیخ جیسے نوجوانوں کے ساتھ کھڑا رہنا چاہئے اور جدیدیت کی راہ اپنانی چاہئے۔ مذہب کے نام پر پیچھے کی طرف سفر کرنے سے امت مسلمہ کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو ہندو برادری کے جو لوگ آج بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں، وہ بھی ایک دن ہچکچانے لگیں گے۔اسی کے ساتھ علماء حضرات سے بھی میری دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ معاشرے میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کی کوشش کریں اور اس بات کو یقینی بناہیں کہ مسلمانوں کے کسی عمل سے برادرانِ وطن کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔