ممبئی:بنگلہ دیش سے غیرقانونی طریقے سے دراندازی کرکے ممبئی میں رہنے والے روبیل شیخ کو بی جے پی کے ذریعے شمال ممبئی ضلعے کا اقلیتی شعبے کا یوتھ صدر بنانے کا معاملہ پولیس کی ایک چھاپہ ماری میں سامنے آیا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بی جے پی کے اتنے برے دن آگیے ہیں کہ اسے اب بنگلہ دیشی درانداوزں کو عہدہ دینے کی نوبت آگئی ہے؟ یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے ریاستی ترجمان مہیش تاپسے نے کہتے ہوئے ریاستی وزیرداخلہ انیل دیشمکھ سے مطالبہ کیا ہے کہ بی جے پی کا بنگلہ دیشی کنکشن کی تفتیش کرائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جانب بی جے پی کے خلاف بولنے والوں کو بی جے پی کے کارکنان غدار قرار دیتے تھے، مگر اب وہ خود بنگلہ دیشی بن کر سامنے آرہے ہیں۔ تاپسے نے کہا کہ پولیس کی چھاپے ماری میں یہ معلومات سامنے آئی ہے کہ بنگلہ دیش سے غیرقانونی طریقے سے ممبئی میں دراندازی کرتے ہوئے رہنے والے روبیل جونوشیخ نے جھوٹے دستاویزات تیار کیا تھا۔ اس نوجوان کو بی جے پی کو شمال ممبئی اقلیتی شعبے کے یوتھ ونگ کا ضلع صدر بنارکھا تھا۔ پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نوجوان نے جو دستاویزات تیار کیے تھے وہ تمام کے تمام جھوٹے اور جعلی تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے ہر مخالف پر غداری کا الزام عائد کرنے والے بی جے پی کے لیڈران اس معاملے میں خاموش کیوں ہیں؟ تاپسے نے کہا کہ ممبئی ومہاراشٹر کے اقلیتی طبقے کے ہمارے بھائی بی جے پی سے دور رہتے ہیں اس لیے اب بی جے پی پر بنگلہ دیشی لوگوں کو عہدے دینے کی نوبت آگئی ہے۔ تاپسے نے سوال کیا کہ غیرقانونی طریقے سے دراندازی کرتے ہوئے ممبئی میں رہنے والے اس طرح کے لوگ اگر سماج کو نقصان پہونچانے والا کوئی کام کرتے ہیں تو کیا بی جے پی اس کی ذمہ داری قبول کرے گی؟