ممبئی: الیکشن کمیشن نے آج مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کر دیا، جس کے مطابق 20 نومبر کو ووٹنگ ہوگی اور 23 نومبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ 2019 میں بھی ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوئی تھی اور اس بار بھی مہاراشٹر میں انتخابات ایک ہی مرحلے میں ہوں گے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمان سنیل تٹکرے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این سی پی پوری طاقت کے ساتھ مہایوتی کے تحت انتخابات لڑنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ نشستوں کی تقسیم کا عمل تیزی سے مکمل کرنے کے لیے آج اور کل مہایوتی کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت ہوگی اور آئندہ دو دنوں میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔ 288 نشستوں کے انتخابات میں، ہر حلقے میں اتحاد کے اتحادیوں کی مجموعی طاقت کو منظم کرنے کے لیے نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ سنیل تٹکرے نے کہا کہ اب تمام تیاریوں میں تیزی لانا ضروری ہے۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے تٹکرے نے کہا کہ ان کا مقصد صرف جھوٹی مہم چلانا اور عوام کے ذہنوں میں الجھن پیدا کرنا ہے۔ جیسے انہوں نے لوک سبھا انتخابات میں جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے کامیابی حاصل کی تھی، ویسا ہی جھوٹا پروپیگنڈہ اب بھی کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم آئین کے تحت 26 نومبر تک ریاست میں حکومت کا قیام لازمی ہے اور الیکشن کمیشن نے آج اس بات کو واضح کر دیا ہے۔
انتخابی مہم کے وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے تٹکرے نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دیوالی کے بعد ووٹنگ کی تاریخ مقرر کرکے درست فیصلہ کیا ہے، کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں نے یہی درخواست کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1995 کے انتخابات میں سب سے زیادہ 45 آزاد امیدوار جیتے تھے، اور ہر الیکشن میں آزاد امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس بار بھی کئی حلقوں میں آزاد امیدوار میدان میں آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہایوتی میں شامل کسی بھی کارکن کو اپنے امیدوار کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس معاملے پر مکمل نگرانی رکھی جائے گی۔
تٹکرے نے ان افواہوں کی بھی تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایم ایل اے اندرنیل نائک این سی پی چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اندرنیل نائک نے آج ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار اور ان سے ملاقات کی، جس سے یہ افواہیں بے بنیاد ثابت ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اندرنیل نائک نے اجیت دادا پوار کی قیادت میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران اپنے حلقے میں ترقیاتی کاموں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ این سی پی کے ساتھ ہی اپنے سیاسی سفر کو آگے بڑھائیں گے۔
