بدعنوان مہایوتی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کریں: رمیش چنیتھلا
کانگریس اور ایم وی اے الیکشن کے لیے پوری طرح تیار ہے، مہاراشٹر مودی شاہ کے نظریات کو کبھی قبول نہیں کرے گا: نانا پٹولے
اگر ممبئی میں ٹول معافی ہے تو پورے مہاراشٹر میں ٹول معافی کیوں نہیں؟ ’ٹول فری مہاراشٹر‘ کے وعدے کا کیا ہوا؟
ممبئی: کانگریس اور ایم وی اے اسمبلی انتخابات کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ڈھائی سال میں بی جے پی مخلوط حکومت نے ریاست میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی۔ حکومتی خزانے میں پیسے نہیں ہیں اور فنڈز کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں بدعنوان مہایوتی حکومت نے صرف ایسے اعلانات کیے ہیں جو عوام کو گمراہ کرنے والے ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے طرح طرح کے اعلانات کیے جارہے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ سب انتخابی جملے ہیں۔ میری ریاست کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مہا یوتی کے فریب کا شکار نہ ہوں اور مہاراشٹر کی ترقی کے لیے مہاوکاس اگھاڑی کو کامیاب بنائیں۔ یہ باتیں مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی انچارج رمیش چنیتھلا نے کہیں۔ وہ ناسک میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ انتخابات سے قبل ممبئی کی پانچ ٹول پلازوں پر ٹول معاف کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ خوش آئند ہے لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ پورے مہاراشٹر میں ٹول کیوں معاف نہیں کیا گیا؟ کیا ممبئی اور مہاراشٹر کے لوگ مختلف ہیں؟ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’ٹول فری مہاراشٹر‘ بنائیں گے، اس اعلان کا کیا ہوا؟ نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی 10 سالوں سے مہاراشٹر کو لوٹ رہی ہے۔ بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت صرف اعلانات کر رہی ہے۔
پٹولے نے مزید کہا کہ مہاوکاس اگھاڈی انتخابات کے لیے تیار ہے۔ اتحاد میں چھوٹے اور بڑے بھائی کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ہمارا مقصد مہاراشٹر کو بچانا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کرنے والوں کو ریاست میں کوئی جگہ نہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ مودی-شاہ کی سوچ مہاراشٹر میں کبھی جڑ نہیں پکڑے گا۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے یقین ظاہر کیا ہے کہ مہاراشٹر میں تصویر بدلے گی اور ایم وی اے کی حکومت اکثریت کے ساتھ آئے گی۔
پٹولے نے کہا کہ گورنر نے منگل کو جلد بازی میں 7 لیڈروں کو گورنر کے مقرر کردہ ایم ایل اے کے طور پر حلف دلایا۔ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے دوران راج بھون کو گورنر کے مقرر کردہ ایم ایل اے کے لیے 12 لوگوں کے نام دیے گئے تھے لیکن اس وقت کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔ پٹولے نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور اس کا فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے۔ ہم گورنر کی جانب سے مقرر کردہ 7 افراد کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔
ہیرامن کھوسرکر کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ اگت پوری کانگریس کے نظریات کا حلقہ ہے اور عوام نے کانگریس چھوڑنے والوں کو سبق سکھایا ہے۔ کھوسکر نے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کراس ووٹنگ کی تھی۔ وہ لوک سبھا انتخابات کے دوران پارٹی مخالف سرگرمیوں میں بھی ملوث تھے۔ اس لیے انہیں پارٹی سے 6 سال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ اگت پوری میں کانگریس سے الیکشن لڑنے کے لیے بہت سارے امیدوار ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اگت پوری سے صرف مقامی امیدوار کو موقع دیا جائے گا۔