ریاست کی عوام فساد کی سیاست کبھی پسند نہیں کرتی: نواب ملک

مالیگاؤں میں گرفتار میونسپل کارپوریٹر ایم آئی ایم کا ہے

ممبئی:جب بی جے پی کے لئے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں تو وہ فساد کا اپنا ہتھیار باہر نکالتی ہے لیکن ریاست کی عوام کبھی فساد کو سیاست کو پسند نہیں کرتی۔ ہم اس گھناؤنی سیاست کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ سخت تنقید آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے پارٹی دفتر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کی۔

نواب ملک نے کہا کہ امراوتی میں منصوبہ بند طریقے سے شہر میں فسادات برپا کیا گیا، پولیس اس کی تفتیش کررہی ہے۔ اس فساد کے لئے ممبئی سے پیسے روانہ کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قومی صدر ریاست میں آکر کہتے ہیں کہ مہاراشٹر حکومت کا تختہ الٹ دیں گے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حکومت اس طرح اکھاڑی اور بٹھائی نہیں جاتی ہے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ بنگال میں اس کا مظاہرہ ہوا۔ لیڈران کو خوفزدہ کرکے بی جے پی میں شامل کیا گیا لیکن جب ترنمول کی حکومت آئی تو وہی لیڈران دوبارہ اپنی پارٹی میں چلے گئے۔ بی جے پی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ آپ پیسے اور مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے حکومت نہیں اکھاڑ سکتے۔ نواب ملک نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ کہتے ہیں کہ مہاراشٹر حکومت کی مقناطیس پیسہ، انہیں یہ بات نہیں معلوم کہ شیواجی کی وراثت مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی مقناطیس ہے، پیسہ نہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ وسیم رضوی کی لکھی گئی کتاب تنازع کا باعث بنی۔ جس کی وجہ سے بعض مقامات پرلوگوں نے بند کا انعقاد کیا اور جس میں سے کچھ مقامات پر یہ بندد متشددہوگیا۔ پولیس نے ایسے تمام افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ مالیگاؤں میں بند کے دوران ایسا ہی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔کہا جارہا ہے کہ اس معاملے میں این سی پی کاایک کارپوریٹرگرفتارکیا گیا ہے جبکہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ گرفتار شدہ کارپوریٹر این سی پی کا نہیں بلکہ ایم آئی ایم کا ہے۔ وہاں کے مفتی اسماعیل چند سال قبل این سی پی میں شامل ہوئے تھے۔ ان کی قیادت میں وہاں این سی پی کے کچھ کارپوریٹر منتخب ہوئے تھے۔ لیکن پھر مفتی اسماعیل ایم آئی ایم میں شامل ہو گئے۔ تمام منتخب کارپوریٹرس بھی ان کے ساتھ ایم آئی ایم میں چلے گئے تھے۔گوکہ دستاویزی طور پر وہ کارپوریٹر این سی پی کا ہے لیکن عملا وہ ایم آئی ایم میں شامل ہوچکا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ کارڈیلیا کروڑ ڈرگس معاملے کو دبانے کے لئے این سی بی لیپاپوتی کی کوشش کررہی ہے۔ اس معاملے کی تین الگ الگ طور پر تفتیش چل رہی ہے۔ ممبئی پولیس کی ایس آئی ٹی بھی تفتیش کررہی ہے۔ اسے کتنا بھی دبانے اورکتنا بھی لیپاپوتی کی کوشش کرلی جائے، سچائی بہت جلد باہر آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میری لڑائی این سی بی کے خلاف نہیں ہے بلکہ این سی بی کی چنڈال چوکڑی کے خلاف ہے جنہوں نے اس ہزاروں کروڑ روپئے کی ہفتہ وصولی کی ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ

کاشف خان کا برانڈ’نمسکرے‘ کو NCB نے چھاپے ماری میں ضبط کیا ہے۔ کاشف خان اس وقت گوا میں ہے۔ روسی مافیا یہیں سے منشیات کا کاروبار کرتا ہے۔ کاشف خان برانڈ پیپر ہے جو چھاپے میں ضبط کیا گیا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وانکھیڈے اسے کیوں بچا رہے ہیں؟ گوا میں چھاپہ کیوں نہیں پڑا؟ مہاراشٹر میں کیوں؟ نواب ملک نے کہا کہ اب سمیر وانکھیڈے کو گجرات کی لیب پر بھروسہ نہیں ہے۔گجرات کے علاقے موربی میں منشیات پکڑی گئی۔پاکستان سے سمندری راستے سے منشیات گجرات آرہی ہیں۔ یہ کھیل گجرات سے شروع ہوا ہے۔ نواب ملک نے ایک بار پھر دہرایا کہ سمیر وانکھیڈے جعل سازی کر رہے تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔