اسرائیل میں حکومت سازی کی دوڑ شروع: کیا نیتن یاہو اقتدار بچا پائیں گے؟

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ تیز ہو گئی ہے، جہاں حالیہ انتخابات میں کوئی بھی بڑا سیاسی کیمپ واضح پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ ایک طرف سابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے اتحاد کو متحد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ’یشار‘ پارٹی کے رہنما گادی آئزنکوٹ ممکنہ اتحادیوں کا دائرہ وسیع کرنے میں مصروف ہیں۔
اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ تیز ہو گئی ہے، جہاں حالیہ انتخابات میں کوئی بھی بڑا سیاسی کیمپ واضح پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ ایک طرف سابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے اتحاد کو متحد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ’یشر‘ پارٹی کے رہنما گادی آئزنکوٹ ممکنہ اتحادیوں کا دائرہ وسیع کرنے میں مصروف ہیں۔

اسی سلسلے میں آئزنکوٹ نے اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ سے ملاقات کی ہے، جبکہ ان کی اسرائیل بیتینو کے سربراہ آویگدور لیبرمین سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ ان رابطوں کا مقصد بُدھ کو صدر آئزک ہرزوگ کی جانب سے جماعتوں سے مشاورت شروع ہونے سے قبل ممکنہ حکومتی اتحاد کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔

صدر ہرزوگ بدھ کو سرکاری انتخابی نتائج موصول ہونے کے بعد مختلف جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کریں گے اور ان کی سفارشات کی بنیاد پر کسی ایک رہنما کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دیں گے۔ منتخب رہنما کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع بھی دی جا سکتی ہے۔

66 سالہ آئزنکوٹ نے ممکنہ اتحادی جماعتوں کے لیے چار بنیادی شرائط رکھی ہیں: اسرائیل کو ایک یہودی، جمہوری اور لبرل ریاست تسلیم کرنا، آزادی کے اعلامیے کے اصولوں کی پاسداری، تمام شہریوں کے لیے فوجی یا قومی خدمت کی حمایت، اور حماس کو دہشت گرد تنظیم مانتے ہوئے اس کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے عزم کا اظہار۔