اورنگ آباد:یکم دسمبر ( ن۔ خ ) بیڑ کے ٹیچر قاضی عامر سیکس اسکینڈل کی پولس انکوائری شروع ہو چکی ہے چونکہ اس معاملے کے فحش ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں اس لئے یہ پورا معاملہ اسٹیٹ سائبر کرائم کے راڈار پر بھی آگیا ہے۔ آگے سائبر کرائم سیل بھی اس معاملے کی الگ سے انکوائری کرنے والا ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بیڑ کے اس ٹیچرس سیکس اسکینڈل کی گونج 17 دسمبر سے شروع ہونے والے مہاراشٹر اسمبلی کے ناگپور سرمائی اجلاس میں بھی سنائی دینے کا امکان ہے اور یہ معاملہ محکمہ خفیہ کے ذریعہ وزارت داخلہ اور مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس تک بھی پہنچنے کی اطلاع ملی ہے۔
اگر متاثرہ ٹیچرس اور 70 سال قدیم بیڑکے معروف تعلیمی ادارے کے منتظمین باقاعدہ پولس میں ٹیچرس سیکس ریکٹ کے سرغنہ قاضی عامر کے خلاف ایف آئی آردا درج نہ کرے گی تو پولس خود فریادی بن کر مقدمہ درج کرے گی۔
باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی ہیکہ سیکس اسکینڈل میں ملوث مسلم تعلیمی اداروں کے تین ٹیچرس کو ملازمت سے برخاست کردیا گیا ہے اور ایک ٹیچر کو والینٹری ریٹائرمنٹ لینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ مزید جو چند ٹیچرس اور اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف بھی جلد ہی کا روائی کا امکان بتایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر قاضی عامر سیکس اسکینڈل کے ویڈیو وائرل کرنے والے بھی تحقیقات کے بھنور میں آنے والے ہیں ۔ پولس اور سائبر کرائم کے ذمہ داروں کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کرنے سے قبل پولس کو اطلاع کیوں نہیں دی گئی.
یہ گھناؤنا جرم ہو رہا تھا اس مقام کی نہ انشاندہی کر کے وہاں پولس کا چھاپہ کیوں نہیں ڈلوایا گیا ۔ سماجی مجرمین کو رنگے ہاتھوں پکڑوانے کے بجائے سوشل میڈیا پر مخرب اخلاق اور مذموم حرکتوں کے ویڈیو آخر کس مقصد سے وائرل کروائے گئے ۔
مرہٹواڑہ کے تمام اُردو اور مسلم تعلیمی اداروں کے منتظمین کے ساتھ جن علاقوں میں یہ اسکول ہیں وہاں کے ملت کے ذمہ داروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے اداروں کو اس طرح کی بدنامی سے بچانے کے لئے ٹیچرس پر نظر رکھی جائے ، کون کب آتا ہے، کب جاتا ہے، کس کے کس سے قابل اعتراض تعلقات ہیں یا کہیں سوسائٹی میں ایسے لوگ تو نہیں ہیں جو ٹیچرس کی کسی نہ کسی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان کا استحصال کر رہے ہوں ، ان پر نظر رکھ کر انہیں بھی بے نقاب کرنا چاہئے ۔ کیونکہ ایسے واقعات مسلم معاشرے کے لئے بڑے ہی افسوسناک اور تشویشناک ہیں ۔
اللہ تعالی نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ ائے ایمان والو! تم فحش باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ ۔ لیکن افسوس کہ باتیں تو دور کی بات کچھ لوگ بداعمالیوں سے ایمان ، آخرت برباد کر کے دنیا کی رسوائی اور آخرت کا عذاب مول لے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ شیطان گناہوں کو خوشنما بنا کر پیش کرتا ہے ، ائے ایمان والو ! تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو، اللہ تمہارے صغیرہ گناہ یونہی معاف کر دیتا ہے۔ کبیرہ گناہ دنیا کی زندگی میں بھی انسان کو ذلیل کرتے ہیں اور آخرت میں زانیوں کے لئے بڑا ہی درد ناک عذاب ہے ۔ موت برحق ہے آخرت حقیقت ہے ۔ قیامت کے دن جب اللہ سارے بندوں کو دوبارہ زندہ کریں گے تو اس کے بعد کبھی کسی کو موت نہیں آئے گی ۔
جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے وہ عذاب کی دردناک اور اذیت ناک تکلیف سے موت مانگیں گے لیکن انہیں موت نہیں آنے والی اور نہ ہی کوئی ان کا مددگار ہوگا۔ تعلیمی ادا ا ی اداروں میں ملت کے نو نہال بیٹے بیٹیاں تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت حاصل کرنے جاتے ہیں لیکن ایسے واقعات سے ان کے ذہنوں پر دل و دماغ پر کیا اثرات ہوں گے یہ بہت ہی سنجیدگی سے سبھی کو غور کرنا ہوگا۔ ملت کے جو لوگ اور نوجوان عامر سیکس اسکینڈل کے فحش ویڈیو مو بائل پر وائرل کر رہے ہیں ان کو اس حرکت سے باز رکھا جائے کیونکہ جس کسی نے بھی زنا کے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہے اور جو لوگ دیکھنے کا گناہ کر رہے ہیں ان سب کے گناہ وائرل کرنے والے کے نامہ اعمال میں درج ہو رہے ہیں، جان لو کہ یہ قدرت کا قانون ہے۔ مسلم تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی نظم کرنے ، طلباء اور ٹیچرس کو شریعت اسلامی سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ ہر کسی کو آخرت میں زندگی کی ہر عمل کا جواب اور حساب دینا ہے۔ بشکریہ اردو روزنامہ اورنگ آباد ٹائمز