NCP Urdu News 14 October 25

اجتماعی جنگلاتی حقوق کے مستحق تمام دیہاتوں کو جلد از جلد ان کے حقوق دیے جائیں: اجیت پوار

جنگل نہ ہونے والے مگر قبائلی آبادی والے دیہات بھی پیسہ اسکیم میں شامل کیے جائیں

جنگلاتی پٹّہ دار کسانوں کو قرض، بیمہ اور وراثتی حقوق کی اسکیموں کا فائدہ ملے: نائب وزیراعلیٰ کے احکامات

جلگاؤں کے ایرنڈول میں قبائلی ترقی کا نیا دفتر قائم کرنے کی تجویز پیش کی جائے

ممبئی: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے ریاستی محکمۂ قبائلی ترقی اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ اجتماعی جنگلاتی حقوق کے مستحق تمام دیہاتوں کو جلد از جلد ان کے حقوق دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں تقریباً 17 ہزار دیہات اس کے اہل ہیں، لیکن اب تک صرف 5 ہزار دیہات کو ہی یہ حقوق دیے گئے ہیں۔ بقیہ 12 ہزار دیہاتوں کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے تاکہ محروم قبائلی اور غریب طبقات تک سرکاری سہولتیں پہنچ سکیں۔

یہ احکامات اجیت پوار نے منترالہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے، جس میں جنگلاتی حقوق قانون 2006 کے نفاذ اور جلگاؤں، دھولیہ اور نندوربار کے قبائلی علاقوں کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں ریاستی وزرا اشوک اُئیکے، دتاترے بھرنے، مانی کراؤ کوکاٹے، بابا صاحب پاٹل، مکرند پاٹل، میگھنا بورڈیکر اور دیگر افسران و نمائندگان موجود تھے۔

اجیت پوار نے کہا کہ جن کسانوں کو جنگلاتی زمینوں پر پٹّے دیے گئے ہیں، انہیں بھی دیگر کسانوں کی طرح تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے حکم دیا کہ ان پٹّہ دار کسانوں کو فصل قرض، گوپی ناتھ منڈے حادثاتی بیمہ اسکیم، وراثتی حقوق اور دیگر سرکاری منصوبوں کا فائدہ دیا جائے۔ جب تک کسان شناختی کارڈ جاری نہیں ہوتا، آدھار کارڈ کی بنیاد پر انہیں تمام سہولتیں ملنی چاہئیں۔ اگر پٹّہ دار کے انتقال کے بعد اس کے وارثین زندہ ہوں تو انہیں بھی فائدہ دیا جائے۔ فصل کو نقصان پہنچنے کی صورت میں معاوضہ دیا جائے اور اس کے لیے ضروری ترامیم کی جائیں۔

اجلاس میں اجیت پوار نے یہ بھی ہدایت دی کہ جلگاؤں کے ایرنڈول علاقے میں قبائلی ترقی کے محکمے کا ذیلی دفتر قائم کرنے کی تجویز فوری طور پر پیش کی جائے، کیونکہ یہ مقام نو لاکھ سے زائد قبائلیوں کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہزار سات سو چونتیس نئے قبائلی اکثریتی دیہاتوں کو ’پیسہ اسکیم‘ میں شامل کرنے کی تجویز نومبر کے پہلے ہفتے تک مرکز کو بھیجی جائے۔ ایسے دیہات جن میں جنگل نہیں مگر 50 فیصد سے زیادہ آبادی قبائلی ہے، انہیں بھی اس اسکیم کے دائرے میں لایا جائے۔

نائب وزیراعلیٰ نے وزیراعظم نریندر مودی کی ’پردھان منتری آواس یوجنا، سب کے لیے گھر‘ اسکیم کے تحت ہر مستحق کو مکان دینے کے خواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اس اسکیم پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے اور تمام قانونی رکاوٹیں ختم کر کے عوام کو ان کے گھروں کا ملکیتی حق دیا جائے۔ اجلاس میں جنگلاتی پٹّہ دار کسانوں کے زرعی پیداوار پر مبنی صنعتی کلسٹر بنانے، بھِلّ سماج کی مردم شماری اور چوپڑا تعلقہ کے کرجانے میں مہا وِترن سب اسٹیشن کے قیام جیسے موضوعات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

NCP Urdu News 14 Oct. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading