مہاوکاس اگھاڑی میں ایم این ایس کی شمولیت پر کوئی بات نہیں ہوئی
انڈیا اتحاد میں شامل کرنے کا فیصلہ انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کا ہوگا: ہرش وردھن سپکال
ووٹ چوری اور انتخابی گھوٹالے کا معاملہ سب سے پہلے راہل گاندھی نے اٹھایا، انتخابی عمل پر سبھی کو شک ہے
نئی دہلی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے واضح کیا ہے کہ مہا وکاس اگھاڑی میں مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کی شمولیت کے حوالے سے نہ کوئی تجویز سامنے آئی ہے اور نہ ہی اس موضوع پر کسی سطح پر کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق میڈیا میں جو یہ خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ ایم این ایس کو شامل کرنے پر اتحادی جماعتوں میں ناراضگی یا اختلاف ہے، وہ سراسر بے بنیاد ہیں۔
نئی دہلی کے مہاراشٹر سدن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف اور جمہوریت و دستورِ ہند کے تحفظ کے لیے کانگریس پارٹی مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت پورے ملک میں مختلف سیاسی پارٹیوں نے ایک ساتھ آ کر انڈیا اتحاد (INDIA Alliance) تشکیل دیا ہے۔ اگر کوئی نئی پارٹی اس اتحاد میں شامل ہونا چاہتی ہے تو اس پر فیصلہ انڈیا اتحاد کے ہی رہنما کریں گے۔ ریاستی سطح پر بھی بی جے پی مخالف قوتوں کو یکجا کرنے کے لیے مہا وکاس اگھاڑی کا قیام عمل میں آیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کو آزاد، منصفانہ اور شفاف ماحول میں ہونا چاہیے، مگر حالیہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر گڑبڑیاں ہوئی ہیں۔ ووٹر لسٹ میں رد و بدل کیا گیا اور ووٹ چوری کے کئی معاملات سامنے آئے۔ راہل گاندھی نے سب سے پہلے ان بے ضابطگیوں اور گھوٹالوں کو ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ملک کے سامنے رکھا۔ انہی معاملات کو لے کر ریاست کی مختلف پارٹیوں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ اس وفد میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سینئر رہنما بالا صاحب تھورات، اور ممبئی کانگریس کی صدر و رکن پارلیمنٹ ورشا گائکواڑ بھی شامل تھیں۔ ہرش وردھن سپکال نے وضاحت کی کہ مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں انڈیا اتحاد کے اتحادی فریقوں کے ساتھ اتحاد یا سیٹ شیئرنگ کا فیصلہ مقامی سطح پر ہی کیا جائے گا۔ ریاستی سطح پر کوئی اجتماعی فیصلہ نہیں لیا جائے گا، اور یہ اختیار ہر ضلع و شہر کے پارٹی قائدین کو دیا گیا ہے۔
MPCC Urdu News 14 October 25.docx
