حکومت فوری طور پر کسانوں کی مدد کرے:شردپوار
وزیراعظم نے آبپاشی گھوٹالہ کا الزام کس پر عائد کیا تھا؟
پارٹی چھوڑنے والے اسمبلی میں دوبارہ نظر نہیں آتے، مودی نے کس پر آبپاشی گھوٹالے کا الزام عائد کیا تھا؟
پونے:ریاست کے کچھ حصوں میں خشک سالی ہے، کہیں پانی کی قلت ہے۔ بعض علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے سے زراعت، فصلوں اور باغات کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ پنچنامے کا کام سست رفتاری سے جاری ہے، اس لیے کسان پریشان ہیں۔ یہ سوالات اسمبلی میں تواٹھائے ہی جائیں گے لیکن مہاراشٹر حکومت کو جلد از جلد کسانوں کی مدد کرنی چاہئے۔یہ مطالبہ آج یہاں این سی پی کے قومی صدر شرد پوار نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔
ریاست میں خشک سالی کی صورت حال پر آج پونے میں شردپوار کی موجودگی میں این سی پی کے ممبرانِ اسمبلی وممبرانِ پارلیمنٹ کی میٹنگ ہوئی،جس کے بعد مسٹر شردپوار نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں این سی پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ میٹنگ کی۔ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے مہاراشٹر کے کچھ اضلاع کا دورہ بھی کیا۔ اس دورے کے دوران دو چیزیں سامنے آئیں۔ پہلی یہ کہ ریاست کے کچھ حصوں میں خشک سالی کی صورت حال ہے۔ پانی کی اس قدر قلت ہے کہ ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔دوسری یہ کہ کچھ علاقوں میں شدید بارش سے فصلوں اور کسانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ کچھ جگہوں پر اس کے پنچنامے بھی شروع ہیں، لیکن ان کی رفتار نہایت سست ہے جس کی وجہ سے کسان پریشان ہیں۔ ریاستی حکومت کو فوری طور پر ان لوگوں کی مددکرنی چاہیے۔ہم نے حکومت تک یہ تجویز پہنچادی ہے اور یہی اسمبلی کے اجلاس میں بھی پیش کیا جائے گا۔ لیکن اگر وزیر اعلیٰ اور ان کے ساتھی اس معاملے پر توجہ دیں تو یہ تمام باتیں ان کی نظر میں آجائیں گی۔
اس موقع پر مسٹر شرد پوارنے اجیت پوار کے الزامات پر بھی بات کی اور کہا کہ میں پارٹی کا صدر تھا، اجتماعی فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد کسی کو کوئی علاحدہ موقف اختیار کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ ہمارا واضح موقف تھا کہ ہمیں بی جے پی کے ساتھ نہیں جاناہے۔ کل کی تقریر میں کہا گیا کہ انل دیشمکھ بھی بی جے پی کے ساتھ جانا چاہتے تھے، لیکن دیشمکھ نے کل فوری طور پر یہ اعلان کیا کہ میں نے نہ توکبھی ایسی رائے ظاہر کی اور نہ ہی یہ کبھی میرا موقف رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ راستہ ہمارا نہیں ہے۔ انیل دیشمکھ کے اس واضح موقف کے بعد ان کے نام کا غلط استعمال کرنا کس طرح مناسب ہوسکتا ہے؟شرد پوار نے کہا کہ میری جانب سے انہیں کبھی نہیں بلایا نہیں گیا۔ میں پارٹی کا صدر ہوں، اس لیے پارٹی کے کسی بھی رکن کو مجھ سے رابطہ کرنے کا حق ہے۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے کچھ مطالبات کیے تھے جن پربات چیت بھی ہوئی تھی۔وہ لوگ جس راستے پر جانے کا مطالبہ کررہے تھے اس راستے پر جانا ہم لوگوں کو منظور نہیں تھا۔
مسٹر شردپوار نے کہا کہ 2019 کے اسمبلی انتخابات میں ہم نے لوگوں سے جو ووٹ مانگے تھے وہ بی جے پی کے ساتھ جانے کے لیے نہیں تھا۔ وہ ایک خاص پروگرام کے لیے تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ بی جے پی اور اس کی سوچ کے خلاف تھا۔الیکشن میں ہمارے لوگ اس لیے منتخب ہوئے کہ ہمارے موقف کو عوام کی حمایت حاصل تھی۔ اس لیے عوام کے سامنے ہم نے جو پروگرام پیش کیا، جو موقف ظاہر کیا اگر ہم اس کے خلاف جاتے وہ لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہوتا۔ اس لیے بی جے پی کی ساتھ ہمارا جانا کسی طور مناسب نہیں تھا اور یہی موقف ہمارے ساتھ دیگر ممبران نے بھی اختیار کیا۔
جناب شردپوار نے کہا کہ پارٹی چھوڑنے والے اسمبلی میں دوبارہ نظر نہیں آتے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ساتھ کتنے ایم ایل اے ہیں؟ یہ میں آج نہیں بلکہ مناسب وقت آنے پر بتاؤنگا۔مسٹرپوار نے کہا کہ نامہ نگاروں سے کہا کہ نریندر مودی نے بھرے اجلاس میں آبپاشی گھوٹالہ کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے وہ الزام کس پر لگایا تھا؟ یہ آپ لوگ پتہ کیجئے۔ انڈیا اتحاد کی میٹنگ سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے شرد پوار نے اطلاع دی کہ پانچ ریاستوں کے نتائج آنے کے بعد انڈیا اتحاد کی میٹنگ ہوگی۔
مسٹر پوار نے مزید کہا کہ پرفل پٹیل کو ان کی شکست کے باوجود وزارت کا عہدہ دیا گیا، جس کا انہیں افسوس ہے۔ پرفل پٹیل کواپنی کتاب میں اس پربھی ایک باب لکھنا چاہئے کہ لوگ پارٹی چھوڑکر کیوں جاتے ہیں۔اسی کے ساتھ اپنے خلاف ای ڈی کی کارروائی پر بھی انہیں لکھنا چاہئے۔ ای ڈی نے پرفل پٹیل کے گھر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس وقت کیا کیا ہوا، اس پر بھی وہ لکھیں۔ یہ سب پڑھ کر ہماری معلومات میں اضافہ ہوگا۔
شرد پوارنے کہا کہ پوار کے خلاف پوار کیسے ہوگا؟ دراصل بارامتی کی ایم پی سپریا سولے ہیں۔ ہماری پارٹی کا صدر جس امیدوار کو ٹکٹ دے گا وہی الیکشن لڑے گا۔ آخر جمہوریت ہے۔ جمہوریت نے اپوزیشن کو حق دیا ہے کہ وہ اپنا موقف لے کر عوام میں جائیں۔ انہیں اس بات کی فکر کرنی ہے کہ لوگوں کے سامنے کیا بات رکھنی ہے۔اس لیے وہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ہم ہی این سی پی ہیں،لیکن عوام سچائی جانتی ہے۔ اس لیے ووٹ دیتے ہوئے عوام کوہی اصل فیصلہ کرے گی۔جناب شردپوار نے کہا کہ جائز مطالبات کے لیے احتجاج کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ریاست میں سماجی اتحاد کو برقرار رکھا جانا بھی ضروری ہے۔ یہ ہمارا واضح موقف ہے کہ ذات برادریوں کے درمیان خلیج نہیں بڑھنی چاہیے۔ احتجاج کرنے والے اپنا موقف پیش کریں اور اس بات کی فکر کریں کہ اس سے ذات وبراداری کے درمیان کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو۔