ممبئی کا بجٹ بی جے پی کے انتخابی کھیل کا حصہ عوام کے پیسوں پر دہلی کی سیاست نہیں چلے گی: ایڈووکیٹ امول ماتیلے

ممبئی: ممبئی میونسپل کارپوریشن کا 74,427 کروڑ روپے کا بجٹ عوامی مفاد سے زیادہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی فائدے کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ یہ بات این سی پی-ایس پی کے ریاستی ترجمان اور پارٹی کے یوتھ ونگ کے ممبئی کے صدر ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے کہی ہے۔ انہوں نے اس بجٹ کو ممبئی کے عوام کے پیسوں پر دہلی میں اقتدار کی سیاست چمکانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔

ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے کہا کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن اس وقت منتخب عوامی نمائندوں کے بغیر کام کر رہی ہے اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کی زیرِ قیادت انتظامیہ نے من مانے منصوبے بجٹ میں شامل کیے ہیں۔ جب شہر کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، تب یہ یکطرفہ بجٹ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ ترقیاتی بجٹ نہیں، بلکہ بی جے پی کے لیے انتخابی فنڈنگ کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی میں سڑکوں کی خستہ حالی، پینے کے پانی کی قلت، ٹھوس فضلہ مینجمنٹ کی ناکامی اور صحت عامہ کے شعبے کی زبوں حالی جیسے مسائل جوں کے توں ہیں۔ مگر عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بجائے بی جے پی حکومت صرف تشہیری مہمات پر کروڑوں روپے بہا رہی ہے۔ یہ بجٹ حقیقت میں ممبئی کے عوام کی جیب کاٹ کر بی جے پی کے انتخابی منصوبوں کو پورا کرنے کی سازش ہے۔

ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے سوال اٹھایا کہ ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے تو بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں، مگر ان کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ پیسہ آخر کہاں جا رہا ہے؟ مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بجٹ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ کمشنر کے ذریعے پیش کیے جانے والے اس بجٹ کے اصل فیصلے دہلی میں ہو رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے کہا کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے پاس پہلے ہی ہزاروں کروڑ روپے کی رقم موجود ہے، اس کے باوجود شہریوں پر نئے ٹیکس عائد کرنا زیادتی ہے۔ یہ عوام کے پیسے کا غلط استعمال ہے۔ ہم اس لوٹ مار کو برداشت نہیں کریں گے اور عوام بھی جان چکے ہیں کہ ان کا پیسہ کہاں جا رہا ہے۔ بی جے پی کو اس کا حساب دینا ہوگا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading