
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر غزہ کا ’کنٹرول‘ سنبھالنے کے اپنے منصوبے کو دہرایا ہے۔اب سے کچھ دیر پہلے انھوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ ’اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل، غزہ کی پٹی کو امریکہ کے حوالے کر دے گا۔ فلسطینی اور چک شومر جیسے لوگ پہلے ہی کہیں زیادہ محفوظ اور خوبصورت کمیونٹیز میں آباد ہو چکے ہوں گے۔‘
ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’انھیں درحقیقت خوش، محفوظ اور آزاد رہنے کا موقع ملے گا۔ امریکہ پوری دنیا کی عظیم ترقیاتی ٹیموں کے ساتھ کام کر رہا ہے، اور آہستہ آہستہ اور احتیاط سے اس کی تعمیر شروع کر دے گا جو زمین پر اپنی نوعیت کی سب سے بڑی اور شاندار پیشرفت میں سے ایک ہو گی۔ اس کے لیے امریکہ کو کسی فوجی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ خطے میں استحکام راج کرے گا۔‘
واضح رہے کہ ڈیموکریٹس سے تعلق رکھنے والے چک شومر امریکی سینیٹ میں اقلیتوں کے رہنما ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک تقریر کے دوران انھوں نے ٹرمپ کو ’لاپرواہ اور قانون کا احترام نہ کرنے والا‘ قرار دیا تھاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ کا ’کنٹرول سنبھالنے‘ اور اسے اپنی ’ملکیت‘ میں لینے اور اس سارے عمل کے دوران وہاں کے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کے منصوبے پر عملدرآمد تو نہیں ہونے والا کیونکہ اس کام کے لیے انھیں عرب ممالک کی حمایت کی ضرورت ہو گی جو پہلے ہی اس کی مخالفت کا اعلان کر چکے ہیں۔
ان ممالک میں مصر، اردن اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ مصر اور اردن ان افراد کی دوبارہ آبادکاری کے لیے جگہ مہیا کریں جبکہ انھیں سعودی عرب سے امید ہوگی کہ وہ اس سارے عمل کا خرچ اٹھائے۔
امریکہ اور اسرائیل کے مغربی اتحادی بھی اس تجویز کے مخالف نظر آتے ہیں۔شاید غزہ کے بہت سارے فلسطینیوں کو وہاں سے نکلنے کا موقع کافی پرکشش لگے اور وہ اس سے فائدہ بھی اٹھانا چاہیں لیکن اگر دس لاکھ فلسطینی بھی غزہ چھوڑ کر چلے جائیں تب بھی 12 لاکھ کے قریب لوگ پیچھے رہ جائیں گے۔
امریکہ کو ان افراد کو وہاں سے جبری طور بے دخل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا۔ سنہ 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے خوفناک نتائج کے بعد یہ کام کافی غیر مقبول ہو گا۔یہ منصوبہ اس تنازع کے دو ریاستی حل کے کسی بھی امکان میں آخری کیل ثابت ہو گا۔ یہ ایک ایسی امید ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ایک صدی سے زیادہ لمبے عرصے سے جاری اس تنازع کو ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
نیتن یاہو کی حکومت اس تجویز کی سخت مخالف ہے۔ برسوں تک جاری رہنے والے ناکام مذاکرات کے بعد اب دو قوموں کے لیے دو الگ ریاستوں کی بات محض ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔لیکن 90 کی دہائی سے یہ تجویز امریکی خارجہ پالیسی کا کلیدی حصہ رہی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔
اس سے امریکہ کا یہ اصرار کے وہ اصولوں کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی نظام پر یقین رکھتا ہے، کا بچا کچھا تاثر بھی ختم ہو جائے گا۔اس سے روس اور چین کے یوکرین اور تائیوان میں علاقائی عزائم کو مزید تقویت ملے گی.
اس منصوبے کا خطے پر کیا اثر پڑے گا؟
کسی ایسی بات کی کیا فکر کرنا جو ہونے ہی نہیں والی یا کم از کم ویسے نہیں ہونے والی جیسے ڈونلڈ ٹرمپ بتا رہے ہیں اور جسے سن کر اسراِئیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو خوش ہو رہے تھے؟اس کا جواب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے یہ بیانات جتنے بھی عجیب لگیں لیکن ان کے نتائج ضرور ہوں گے۔اب ڈونلڈ ٹرمپ کسی ریئلٹی شو کے میزبان نہیں جو سیاسی بیان دے کر شہ سرخیوں میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کریں۔ وہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر ہیں اور اس لحظ سے وہ دنیا کے سب سے طاقتور شخص ہوئے۔
مختصر مدت میں ان کے بیانات پہلے سے ہی جنگ بندی کے نازک معاہدے پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔ ایک سینیئر عرب ذرائع کے مطابق یہ جنگ بندی کے لیے آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔اس معاہدے میں پہلے ہی ایک بڑی کمی یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مستقبل میں غزہ کا انتظام کیسے چلے گا۔اب صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا منصوبہ پیش کیا گیا۔ اس منصوبے پر اگر عملدرآمد نہیں ہوتا تب بھی یہ اسرائیلی اور فلسطینیوں کے ذہنوں میں سوالات کو ضرور جنم دے گا۔