غیر قانونی طریقے سے ٹینڈر جاری، ایک ہی خاندان کی چار کمپنیوں کو کام دیا گیا
الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر ضابطہ اخلاق کے دوران منظوری کیسے دی گئی؟
مہاراشٹر ریاستی پاورلوم کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شری کرشن پوار اور اس وقت کے وزیر زراعت دھننجے منڈے کی ملی بھگت
577 روپے کے تھیلے 1250 روپے میں خرید کر 41 کروڑ 59 لاکھ روپے کا گھوٹالہ کیا گیا
اس بدعنوانی کی مکمل جانچ کرکے شری کرشن پوار اور دھننجے منڈے پر سخت کارروائی کی جائے
ممبئی: مہایوتی حکومت میں بدعنوانیوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ کسانوں کے نام پر بدعنوانی کرکے جیبیں بھرنے کا ایک اور معاملہ شندے-فڑنویس-اجیت پوار حکومت کے دور میں سامنے آیا ہے۔ مہاراشٹر ریاستی پاورلوم کارپوریشن کے ذریعے کپاس ذخیرہ کرنے کے تھیلوں کی خریداری کے لیے ایک علیحدہ پروگرام کے تحت ٹینڈر جاری کرکے 77 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے، جس میں 41.59 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا۔ اس معاملے کی گہرائی سے جانچ کرکے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کی ہے۔
زرعی شعبے میں بدعنوانی پر سخت تنقید کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ایکناتھ شندے کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے بدعنوانی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ کسانوں کے نام پر کروڑوں روپے کا گھوٹالہ کیا گیا ہے۔ کپاس ذخیرہ کرنے کے تھیلوں کی خریداری میں بھی شدید بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔ یہ بدعنوانی مہاراشٹر ریاستی پاورلوم کارپوریشن کے ذریعے کی گئی، جس میں 77.25 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ ایک ہی خاندان کی چار مختلف کمپنیوں کو غیر قانونی طور پر ٹینڈر جاری کرکے یہ کام دیا گیا۔ نانا پٹولے کے مطابق مہاراشٹر ریاستی پاورلوم کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور محکمہ ٹیکسٹائل کے جوائنٹ سیکریٹری شری کرشن پوار نے اپنی پسند کے ایک سپلائر کو پہلے سے معلومات فراہم کرکے ملی بھگت کے ذریعے پوری کارروائی انجام دی۔ حیران کن طور پر یہ خریداری لوک سبھا انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے دوران کی گئی اور اس کے لیے الیکشن کمیشن کی اجازت تک نہیں لی گئی۔
ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ اس پروجیکٹ کے لیے چار کمپنیوں کا انتخاب کیا گیا، جن میں سے تین کمپنیاں اوسوَال گروپ کے ایک ہی خاندان کی ملکیت ہیں، جبکہ چوتھی کمپنی اوسوَال گروپ کے قانونی مشیر کی ہے۔ پاورلوم کارپوریشن نے کپاس ذخیرہ کرنے کے تھیلوں کے لیے 1250 روپے فی تھیلا قیمت منظور کی، جبکہ آئی سی اے آر، ناگپور کو یہی تھیلے 577 روپے فی تھیلا فراہم کیے گئے۔ اس طرح 673 روپے اضافی قیمت پر خریداری کرکے مجموعی طور پر 41 کروڑ 59 لاکھ 35 ہزار 536 روپے کا گھوٹالہ کیا گیا۔ نانا پٹولے نے مزید کہا کہ مہاراشٹر ریاستی پاورلوم کارپوریشن نے کپاس ذخیرہ کرنے والے تھیلے تیار کرنے کے لیے خام مال خریدنے کے بہانے حکومت سے 77.25 کروڑ روپے کا پیشگی فنڈ حاصل کیا، جبکہ کارپوریشن کو صرف تیار شدہ تھیلے خرید کر سپلائی کرنا تھا۔ اس میں خام مال کی خریداری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن دھوکہ دہی کے تحت خام مال کے نام پر مالی بے ضابطگی کی گئی۔
نانا پٹولے نے کہا کہ ایکناتھ شندے حکومت کے دور میں جب دھننجے منڈے وزیر زراعت تھے، اس وقت زرعی آلات کی خریداری اور ڈی بی ٹی اسکیم میں غیر قانونی تبدیلیاں کرکے بڑے پیمانے پر گھوٹالے کیے گئے۔ اس معاملے پر کانگریس پارٹی نے بارہا ایوان اور سڑکوں پر احتجاج کیا، لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ دھننجے منڈے نے خود ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ یہ ساری خریداری اس وقت کے وزیر خزانہ، نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ کی اجازت اور منظوری سے کی گئی ہے۔ نانا پٹولے نے سوال اٹھایا کہ کیا اسی وجہ سے منڈے پر کارروائی نہیں کی جا رہی؟ نانا پٹولے نے کہا کہ مہایوتی حکومت نے کسانوں کے نام پر مختلف کارپوریشنز کے ذریعے خریداری اور سپلائی کے عمل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی ہے۔ کانگریس اس معاملے کو اسمبلی میں بھرپور طریقے سے اٹھائے گی اور اگر حکومت نے کارروائی نہیں کی تو سڑکوں پر تحریک چلا کر ان بدعنوانوں کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت کو مجبور کیا جائے گا۔
42 Crores Corruption in Cotton Storage Bag 2_compressed.pdf