تعلیم سے متعلق لسانی پالیسی میں ماہرینِ تعلیم کی رہنمائی ضروری ہے: سپریا سولے

تعلیم بچوں کے مستقبل سے جڑا حساس مسئلہ ہے، اس میں سیاست کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے

ممبئی: 24 جون 2025

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) کی قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے تعلیم کے شعبے کو ایک انتہائی سنجیدہ اور حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف پالیسی سازی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے، اس لیے حکومت کوئی بھی ہو، اسے سیاست سے بالاتر ہو کر ماہرینِ تعلیم کی رہنمائی میں فیصلے کرنے چاہئیں۔

سپریا سولے نے تعلیمی پالیسی میں زبان کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں جو تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، ان میں سادگی کا پہلو ہونا چاہیے تاکہ طلبہ اور والدین کو اسے سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ انہوں نے اپنی ذاتی تعلیمی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں خود ایس ایس سی بورڈ کی طالبہ رہی ہوں، جس میں پہلی سے چوتھی جماعت تک دو زبانوں کا نظام تھا۔ اب اس نظام میں تبدیلی کی تجویز سامنے آ رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا اس کے پیچھے کوئی تحقیقی بنیاد ہے؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تعلیمی پالیسی میں تبدیلی کرنے سے پہلے اس کے لیے مضبوط اعداد و شمار، تجربات اور سائنسی تجزیہ ضروری ہے۔ صرف من مانی یا ذاتی رائے کی بنیاد پر تعلیمی نظام میں رد و بدل درست نہیں۔

انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے کسی بھی معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے دعوت دی ہے تو تمام سیاسی فریقین کو شرکت کرنی چاہیے، کیونکہ جمہوریت میں تمام مسائل کا حل بات چیت سے ہی نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں کئی سوالات اور شکوک پیدا ہو رہے ہیں، ان پر کھلے دل سے بحث ہونی چاہیے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں ڈیٹا کو محفوظ رکھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر طرح کا ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے، اس لیے اگر الیکشن کمیشن چاہے تو ہر چیز شفاف طریقے سے سامنے آ سکتی ہے۔

بارامتی میں مبینہ طور پر رقوم تقسیم کیے جانے کے الزامات کے حوالے سے سپریا سولے نے کہا کہ اس معاملے پر بھی مکمل شفافیت کے ساتھ کام ہونا چاہیے۔ اگر واقعی کہیں بدعنوانی یا ووٹرز کو متاثر کرنے کی کوشش ہوئی ہے تو اس کی غیر جانبدار جانچ ہونی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل پر برقرار رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ماضی قریب میں ہونے والے مَالیگاؤں شوگر فیکٹری کے انتخابات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سپریا سولے نے کہا کہ ہم کوآپریٹیو تحریک کو سیاسی مفادات سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم خود ان انتخابات میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتے، مگر جو پینل منتخب ہو کر آتا ہے، ہم اس کی ترقی کے لیے ضرور تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے ان تمام افراد کو مبارکباد دی جنہوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا اور جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹیو ادارے دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور ان میں شفافیت، کارکردگی اور ترقی کو فروغ دینا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے۔

سپریا سولے نے اپنی گفتگو کے دوران کئی بار اس بات پر زور دیا کہ تعلیم، جمہوریت اور کوآپریٹیو نظام جیسے شعبے صرف سرکاری حکم سے نہیں، بلکہ عوامی مفاد، تجربہ کار ماہرین کی رہنمائی اور شفافیت کے اصولوں پر چلنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم جیسا حساس موضوع اگر سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا تو اس کا نقصان صرف آج کے طلبہ کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیمی پالیسیوں میں جلدبازی نہ کریں، اور نہ ہی زبان، نصاب یا تعلیمی ڈھانچے سے متعلق فیصلے عوامی مشورے اور ماہرین کی مشاورت کے بغیر کریں۔

NCP-SP Urdu News 25 June 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading