MPCC Urdu News 25 June 25

آر ایس ایس سربراہ بالاصاحب دیورس نے ایمرجنسی کی حمایت کی تھی، کیا بی جے پی دیورس کی پالیسی سے متفق نہیں؟: ہرش وردھن سپکال

اندرا گاندھی کا ایمرجنسی کا فیصلہ آئینی تھا، لیکن گزشتہ 11 برس سے جاری غیر اعلانیہ ایمرجنسی کا کیا؟

سرکاری اشتہارات میں راج مہر کی جگہ سینگول کی تصویر، آئین بدلنے کی سازش کا حصہ

ووٹ چوری معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے، فڑنویس تحقیقات مکمل ہونے تک عہدہ چھوڑیں

ممبئی: 25 جون 2025

ملک میں 1975 میں لگائی گئی ایمرجنسی کو لے کر جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی آئے دن کانگریس پر حملہ آور ہوتی ہے، وہیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی سے سوال کیا ہے کہ اگر ایمرجنسی ایک ایسا بڑا جرم تھا تو پھر آر ایس ایس کے اُس وقت کے سربراہ بالاصاحب دیورس کی حمایت پر خاموشی کیوں؟ سپکال نے کہا کہ دیورس نے ایمرجنسی کی نہ صرف حمایت کی تھی بلکہ جے پرکاش نارائن کی تحریک سے بھی آر ایس ایس کا تعلق نہیں ہونے کا اعلان کیا تھا۔ کیا بی جے پی آج اپنے نظریاتی رہنما کی اُس وقت کی رائے سے انکار کرتی ہے؟

تلک بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی کا 1975 میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ مکمل طور پر آئینی تھا۔ اُس وقت ملک میں کچھ طاقتیں بدنظمی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کے بعد خود انتخابات کروا کر جمہوریت کو بحال کیا، لیکن آج ملک گزشتہ 11 برسوں سے غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی گرفت میں ہے۔ ہوائی اڈے، بندرگاہیں، کانیں، بینکیں اور سرکاری زمینیں ایک خاص صنعت کار کو فروخت کی جا رہی ہیں۔ دھاراوی جیسے قیمتی علاقے کو بھی بیچ دیا گیا ہے۔ آج ملک پر ایک آمرانہ طرز حکومت مسلط ہے، جس میں بی جے پی جمہوریت کو نگلنے کے درپے ہے۔

ایمرجنسی کی برسی پر بی جے پی حکومت کی جانب سے جاری سرکاری اشتہارات پر تنقید کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ ان اشتہارات میں قومی راج مہر (اشوک چکر) کو ہٹا کر سینگول کی تصویر شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینگول کسی مخصوص نظریہ کی علامت ہے اور اس کے ذریعے بی جے پی آئین اور جمہوریت کو ختم کر کے آر ایس ایس کے بانی گولوالکر کے خیالات پر مبنی کتاب Bunch of Thoughts کو نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح طور پر آئین کو بدلنے کی ایک سازش ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے اس موقع پر کانگریس کے ماہنامہ ’شیدوری‘ کے ایمرجنسی پر شائع خصوصی شمارے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس شمارے میں اندرا گاندھی، پپول جے کر، کمار کیتکر، سنجے راوت اور دیگر کئی ممتاز شخصیات کے مضامین شامل کیے گئے ہیں، جن میں ایمرجنسی سے جڑے تاریخی حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ سپکال نے کہا کہ اس شمارے کے ذریعے عوام تک ایمرجنسی کا صحیح پس منظر پہنچایا جائے گا اور بی جے پی کے جھوٹے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے ریاستی اسمبلی انتخابات میں مبینہ ووٹ چوری کے سنگین معاملے کو بھی اٹھایا۔ سپکال نے بتایا کہ راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر فڑنویس کے حلقے میں آٹھ فیصد ووٹرز کی غیر معمولی بڑھوتری کا انکشاف کیا ہے، جو کہ آر ٹی آئی کے تحت حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ کانگریس امیدوار پرفل گُڈدے پاٹل نے یہ معلومات حاصل کیں، جن سے پتہ چلا کہ مخصوص موبائل نمبروں سے ہزاروں جعلی ووٹرز کا اندراج کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے اگرچہ جانچ کا وعدہ کیا تھا، مگر اب تک کوئی عملی کارروائی نہیں ہوئی۔ سپکال نے کہا کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے اور جب تک تحقیقات مکمل نہ ہوں، دیویندر فڑنویس کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔

پریس کانفرنس میں سپکال نے پارلیمنٹ و اسمبلی کی انداز کمیٹی پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ انداز کمیٹی کے اراکین نے دھولیہ کے گیسٹ ہاؤس کے کمرہ نمبر 102 میں پانچ ہزار روپے فی شخص کے حساب سے چاندی کی تھالیوں میں شاہانہ ضیافت اُڑائی اور اس دعوت کی رقم انداز کمیٹی کے بجٹ سے ادا کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کسان قرض معافی کے لیے تڑپ رہے ہیں اور غریب بہنوں کو اسکیم کے تحت دو ہزار ایک سو روپے نہیں دیے جا رہے، تو دوسری طرف سرکاری خزانے سے میزبانی اور اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ سپکال نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت صرف دکھاوے کی جمہوریت چلا رہی ہے جبکہ اصل میں آمریت نافذ کی جا چکی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سچائی کو پہچانیں اور آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کی حفاظت کے لیے آگے آئیں۔

MPCC Urdu News 25 June 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading