نئی دہلی: این سی پی-ایس پی کی کارگزار صدر سپریا سولے نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے کام کاج کو بہتر طریقے پر چلانے کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔ حکومت کو آگے آ کر بحث کرانی چاہیے، مگر بدقسمتی سے پارلیمنٹ کے کام کاج کو صحیح طور پر چلانے کی ذمہ داری میں حکومت ناکام ہوگئی ہے۔
سپریا سولے نے پارلیمنٹ کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں ریاست، ملک اور خارجہ امور کے متعلق مسائل پر بحث ہونی چاہیے، اس لئے ہم پارلیمنٹ میں جاتے ہیں، مگر جب شور شرابہ ہوتا ہے اور بحث نہیں ہوتی، تو بہت بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت میں اپوزیشن مظاہرہ کرتی ہے، یہ اس کا حق ہے، مگر اس بار حکمراں پارٹیاں بھی مظاہرہ کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ انہںو نے کہا کہ آرا مختلف ہو سکتی ہیں اور اس میں کچھ غلط بھی نہیں ہے، لیکن ایک مضبوط جمہوریت میں پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ سپریا سولے نے مزید کہا کہ کانگریس کے دفتر پر حملے کی تصاویر بہت پریشان کن تھیں۔ مہاراشٹر میں ایسی غنڈہ گردی ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔ ہم ایسی غنڈہ گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔ مہاراشٹر میں کیا قانون کی حکمرانی ہے یا نہیں، ایسی صورتحال بنی ہوئی ہے۔
این سی پی- ایس پی کی کارگزار صدر نے کہا کہ لا اینڈ آرڈر کے مسئلے نے ریاست میں عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ روز کہیں نہ کہیں مار پیٹ، قتل اور دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ممبئی کے کلیان میں ہونے والا واقعہ ایک مرتبہ پھر مہاراشٹرین اور غیر مہاراشٹرین تنازعے کو بھڑکانے کا باعث بنا ہے۔ ریاست میں مہایوتی کو عوام نے بڑا مینڈیٹ دیا ہے، مگر پھر بھی ریاست کے پاس ابھی تک ایک وزیر داخلہ نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ دیوندر فڈنویس کو اس پر فوراً ایکشن لیتے ہوئے ان حالات کو روکنا چاہیے۔
سپریا سولے نے کہا کہ اس وقت مہاراشٹر میں بیڑ کے مساجوگ گاؤں کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کے قتل کا معاملہ زیر بحث ہے۔ پولیس افسران کی تبادلے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ اس معاملے کی گہری تحقیقات کرنی چاہیے اور یہ معلوم کرنا چاہیے کہ کیا پولیس افسران پر کسی کا دباؤ تھا؟ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ ہر بار وردی والے افسران پر کارروائی کرنا اور سازش کے اصل ماسٹر مائنڈ کو آزاد چھوڑ دینا، یہ درست نہیں ہے۔
سپریا سولے نے کہا کہ مہاراشٹر میں لا اینڈ آرڈر کا کیا حال ہے؟ قتل، مار پیٹ اور دہشت گردی کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ بارامتی میں قتل کی ایک اور واردات پیش آئی ہے، جو پچھلے کچھ دنوں میں تیسری واردات ہے۔ یہ ایک انتہائی سنگین صورتحال ہے جس میں عوام خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ریاستی حکومت کو ان واقعات کی سنجیدگی سے نوٹس لے کر ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریا سولے نے توقع ظاہر کی کہ ریاستی حکومت ان واقعات کی سنجیدگی سے تحقیقات کرتے ہوئے عوام میں اطمینان بحال کرے گی۔